داعش کی پاکستان اور افغانستان کے انتہا پسندوں میں مقبولیت

متعلقہ ادارے داعش سے چوکس رہیں، نیکٹا کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق اور شام میں عسکریت کے حوالے سے سامنے آنے والی تنطیم داعش نے پاکستان اور افغانستان میں انتہا پسندوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا شروع کر دی ہے۔

دونوں ملک اس سے پہلے اسلامی عسکریت پسندی کے گہواروں کے طور پر شہرت پا چکے ہیں۔ ان ملکوں کے متعلقہ حکام اس صورت حال پر خوف زدہ ہیں کہ اس وبا کے پھیلنے کے خدشات موجود ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ عراق و شام میں خلافت کا اعلان کرنے والی داعش نے پاکستان اور افغانستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ جہادی حلقوں سے فصل لینے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں داعش کے تعارفی کتابچے بھی پاکستان کے شمال مغربی حصوں میں تقسیم کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ۔ اس کے بعد کم از کم تین کم تر درجے کے طالبانی کمانڈروں نے داعش کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی بیعت کا اعلان بھی کیا ہے۔

دونوں ملکوں میں دیواروں پر داعش کے حق میں چاکنگ بھی دیکھی گئی ہے۔ حتی کہ کابل یونیورسٹی ایسی چاکنگ دیکھے جانے کے بعد کئی طلبہ کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے نے اس بارے میں عسکری، فوجی اور سرکاری حکام سے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا یہ کچھ مقامی افراد تھے۔ ابھی تک ایسی اطلاعات نہیں ہیں کہ داعش نے یہاں خود کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان میں سلامتی کے امور کو درپیش چیلنجوں کے ماہر عامر رانا نے اس بارے میں کہا '' داعش متشدد اور غیر متشدد مذہبی رجحان رکھنے والے دونوں طبقات میں متاثر کر رہی ہے۔ '' انہوں نے کہا ''ابھی چند ہی دن پہلے پاکستانی ادارے نیکٹا نے ایک درجن بھر حکومتی اداروں کو لکھا ہے کہ کہ وہ داعش سے ہوشیار رہیں۔''

نیکٹا نے کہا تھا '' داعش کی کامیابیوں نے پاکستان کے ان طبقات کو متاثر کیا ہے جو دو سو کے قریب چھوٹی بڑی تنظیموں کے ساتھ منسلک ہیں یا ان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔''

واضح رہے نیکٹا کی طرف سے یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستانی فوج قبائلی علاقوں میں کئی ماہ سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیے ہوئے ہے۔

تحریک طالبان پاکستان نے داعش اور القاعدہ دونوں کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے حالیہ برسوں کے دوران شام میں جہادی کارروائیوں کی مدد کے لیے ایک ہزار جنگجو بھجوائے ہیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹی ٹی پی باضابطہ طور پر ملا عمر کو ہی امیر المومنین تسلیم کرتی ہے۔ اس بارے میں طالبان اور ان کے حامیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امیر المومنین پہلے ہی موجود ہیں اس لیے داعش نے خلیفہ کا اعلان کر کے درست نہیں کیا۔

اس تناظر میں القاعدہ کی جنوبی ایشیا شاخ داعش کو واضح طور پر تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش تیل کی فروخت اور دیگر ذرائع سے کروڑوں اربوں کما رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں