.

پاکستانی فوج کے سربراہ کی افغان صدر سے ملاقات

نیٹو سیکرٹری جنرل کا افغانستان کا اچانک دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی اورافغان قومی سلامتی امور کے مشیر حنیف اتمارسے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر ہر لکھا کہ’’ کابل کے صدارتی محل میں جنرل راحیل شریف اور صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ ترجمان کے مطابق اس دوران ہونے والی بات چیت مثبت رہی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا دورہ کابل پاکستان اور افغانستان کے درمیان مختلف سطح پر جاری ملاقاتوں کا حصہ ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے بتیا کہ آرمی چیف کابل میں دفاعی تعاون اور سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو تجویز دی تھی کہ کس طرح سے دونوں مملک کے درمیان بین الاقوامی سرحد پرانتظامات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے اس تجویز پربات چیت کے لیے رضا مندی ظاہر کی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کے آئندہ ہفتے دورہ پاکستان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وہ اس دورے کی تصدیق کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس دورے کی تاریخوں کا اعلان مناسب وقت آنے پر کیا جائے گا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ایک ایسے موقع پر کابل کا دورہ کر رہے ہیں جب امریکی محکمۂ دفاع(پینٹاگون) نے ایک حالیہ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ پاکستان اب بھی بھارت اور افغانستان کے خلاف شدت پسند تنظیموں کو استعمال کر رہا ہے اور یہ بات پورے خطے کے استحكام کے لیے خطرناک ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے امریکا اور افغانستان نے قبائلی علاقوں میں جاری پاکستانی فوجی کارروائی کے نتیجے میں سرحد پار کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں متوقع تعاون نہیں کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت کی موجودگی میں پینٹا گون کی اس طرح کی رپورٹ بے بنیاد اور پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

پاکستان نے اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد بدھ کی شام اسلام آباد میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن کو دفتر خارجہ طلب کر کہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

نیٹو سیکرٹری جنرل کا افغانستان کا اچانک دورہ

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس سٹولٹن برگ بھی ایک اچانک دورے پر افغانسان پہنچ گئے۔ کابل میں انہوں نے ملکی صدر اشرف غنی اور سربراہ حکومت عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کیں۔

یہ دورہ سٹولٹن برگ کا نیٹو کے سربراہ کے طور پر افغانستان کا پہلا دورہ ہے۔ اس دوران انہوں نے کابل میں ملکی قیادت کو یقین دلایا کہ سال رواں کے آخر تک افغانستان سے نیٹو کی قیادت میں غیر ملکی فوجی دستوں کے مکمل انخلاء کے بعد یہ مغربی اتحاد ہندو کش کی اس ریاست میں سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔

برسلز سے موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ژینس سٹولٹن برگ کی افغان صدر اشرف غنی اور حکومتی سربراہ عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقاتوں میں مستقبل میں نیٹو اور کابل حکومت کے مابین اشتراک عمل سے متعلق بات چیت کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔

افغانستان میں نیٹو کی کمان میں فرائض انجام دینے والے بین الاقوامی حفاطتی فوج آئی سیف کے دستے اس سال کے آخر تک واپس چلے جائیں گے۔ نیٹو کی طرف سے ابھی بھی افغان سکیورٹی دستوں کی تربیت اور مشاورت کا کام کیا جا رہا ہے۔ سٹولٹن برگ نے آج کابل میں افغان رہنماؤں کو بتایا کہ اس سال31 دسمبر کے بعد بھی نیٹو اتحاد افغان فورسز کی تربیت کا کام جاری رکھے گا۔

نئے افغان صدر اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا اور نیٹو کی طرف سے کابل حکومت کے ساتھ ایسے معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کے تحت سال رواں کے بعد بھی نیٹو کے قریب 12 ہزار فوجی افغانستان میں تعینات رہیں گے۔ ان فوجیوں میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہو گی۔

امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجی دستوں نے نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اس دور کی طالبان انتظامیہ کے خلاف افغانستان میں فوجی مداخلت 2011ء میں کی تھی۔ تب کچھ ہی عرصے میں طالبان انتظامیہ کو اقتدار سے نکال دیا گیا تھا۔ لیکن گزشتہ قریب 13 برسوں سے افغانستان میں طالبان کی مسلح مزاحمت جاری ہے اور نیٹو دستے افغان فورسز کے ساتھ مل کر اسی مزاحمت پر قابو پانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں سٹولٹن برگ نے کابل میں زور دے کر کہا کہ نیٹو کی طرف سے افغان فورسز کی تربیت، مشاورت اور مختلف طرح کی کارروائیوں میں مدد کا عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ کابل میں افغان نیشنل آرمی کی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے ایک سینٹر پر سٹولٹن برگ نے یہ بھی کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ افغان فوج کے کمانڈو یونٹوں کی تعداد اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’افغانستان نیٹو کی اولین ترجیح ہے۔‘‘