.

کوئٹہ: ریپ کی ناکام کوششوں کے بعد چھ سالہ بچی قتل

مقتولہ کی نعش گھر کے قریب کوڑے کے ڈھیر سے ملی: پولیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک چھ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد اسے گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا اور اس کی لاش کوڑے کے ایک ڈھیر کے قریب پھینک دی گئی۔

اس بچی کا نام سحر بتول تھا اور اس کا تعلق ہزارہ نسلی اقلیتی آبادی کے ایک گھرانے سے تھا۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اس ہولناک جرم کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اس بچی کی لاش کوئٹہ میں کوڑے کے ایک ڈھیر کے قریب سے ملی تھی۔

ہزارہ نسل کی اقلیتی آبادی کے لوگ زیادہ تر شیعہ مسلمان ہیں اور ان کے خلاف حالیہ برسوں کے دوران بلوچستان میں فرقہ ورانہ منافرت کی بنیاد پر تشدد کے واقعات کی ایک بڑی لہر دیکھنے میں آ چکی ہے۔ ان پرتشدد واقعات کے ذمے دار زیادہ تر سنی مسلمانوں کے مختلف انتہا پسند گروپ تھے۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ املاش خان نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ یہ ایک انتہائی حد تک قابل مذمت جرم ہے، جس کی چھان بین کی جا رہی ہے اور مجرم کی تلاش جاری ہے۔ آئی جی پولیس کے مطابق اس سلسلے میں چند مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

کوئٹہ سٹی پولیس کے سربراہ عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ مقتولہ سحر بتول ایک ایسے ہزارہ شہری کی بیٹی تھی، جو پاکستانی فوج کی تنصیبات میں سے ایک پر مالی کا کام کرتا ہے۔ چیمہ نے بتایا، ’’اس بچی کی لاش اس کے گھر کے قریب ہی کوڑے کرکٹ کے ایک ڈھیر سے ملی اور اسے ایک رسی کی مدد سے گلہ گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔‘‘

کوئٹہ سٹی پولیس کے سربراہ کے بقول اس بچی کے جسم پر زخموں کے ایسے بہت سے نشانات موجود تھے، جو یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی متعدد کوششیں کی گئی تھیں۔

سحر کی والدہ بختاور بی بی نے روتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور گزشتہ ہفتے یہ بچی اپنے گھر سے کوڑا پھینکنے باہر گئی تھی اور پھر واپس نہ لوٹی۔ ’’ہم نے اسے بہت ڈھونڈا تھا لیکن اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔ ہمیں ایک ہمسائے نے بتایا کہ سحر کی لاش گھر کے قریب ہی کوڑے کے ڈھیر کے پاس پڑی ہوئی تھی۔ سحر کے جسم پر جگہ جگہ زخموں کے نشان اور نیل پڑے ہوئے تھے۔ اس کے منہ اور ناک سے خون بھی بہا تھا۔‘‘