عمران اور قادری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان دونوں جماعتوں کے دوسرے رہ نماؤں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

ان دونوں لیڈروں کے خلاف یہ وارنٹ اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی عمارت اور پارلیمان پر حملے کے الزام میں جاری کیے گئے ہیں۔عدالت نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک ،پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی ،پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر اور پی اے ٹی کے سربراہ رحیق عباسی کے خلاف بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

ان شخصیات کے خلاف اگست میں اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں کارسرکار میں مداخلت ،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے الزام میں مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور پولیس نے عدالت سے ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے لاٹھی بردار کارکنان نے اگست میں اپنے لیڈروں کی اشتعال انگیز تقاریر کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔وہ عمارت کے اندر داخل ہوگئے تھے۔انھوں نے پی ٹی وی کے کنٹرول روم میں داخل ہوکر اس کی نشریات بند کردی تھیں۔پھر فوج کی مداخلت کے بعد وہ عمارت سے باہر نکلے تھے اور پی ٹی وی کی نشریات بحال ہوسکی تھیں۔

لاٹھیوں ،ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مسلح مظاہرین نے پی ٹی وی کی عمارت میں فرنیچر کو نقصان پہنچایا تھا اور برقی آلات توڑ دیے تھے۔وہ وہاں سے نایاب تصاویر ،کیمرے اور عمارت میں واقع مسجد کا ساؤنڈ سسٹم بھی اتار کر لے گئے تھے۔انھوں نے عمارت کی زیریں حصے میں واقع کینیٹن سے کھانے پینے کی تمام اشیاء ہڑپ کر لی تھیں اور کام کی چیزیں اٹھا کر لے گئے تھے۔

پی ٹی وی کی عمارت میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ایک سو سے زیادہ حملہ آوروں کی شناخت کی گئی تھی اور ان میں سے بعض کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ حکومت نے سرکاری ٹی وی کی عمارت پر حملے کو جارحیت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں ملوث مظاہرین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ صحافتی تنظیموں نے بھی پی ٹی وی پر حملے اور اس کی نشریات بند کرنے کی شدید مذمت کی تھی۔

اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ڈی چوک میں دھرنا دینے والےپی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے کارکنان نے ساتھ واقع پارلیمان کی عمارت پر بھی دھاوا بول دیا تھا اور وہ اس کے بیرونی گیٹ کو توڑ کر اندر داخل ہوگئے تھے۔پھر انھوں نے پارلیمان کے سبزہ زار میں خیمہ بستی بسالی تھی اور کئی ہفتے تک عمارت کے اس حصے میں قابض رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں