اشرف غنی بطور افغان صدر پاکستان کے پہلے دورے پر

امریکی افواج کے بعد پاک افغان تعلقات اور بھارتی کردار اہم امور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے صدر اشرف غنی بطور صدر نے پہلے دورہ پاکستان پر اسلام اباد پہنچنے کے بعد پاکستان کے خارجہ اور سلامتی کے امور سے متعلق تبادلہ خیال شروع کر دیا ہے۔ تبادلہ خیال میں دونوں ملکوں کی سلامتی، خود مختاری اور بقائے باہمی کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف امور زیر بحث ہیں۔

ان اہم ترین عہدوں پر فائز پاکستانی شخصیات میں خارجہ امور کے مشیران کے علاوہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نمایاں ہیں۔ رات کو صدر ممنون حسین معزز مہمان کے اعزاز میں ایوان صدر میں عشائیہ دیں گے۔ واضح رہے کہ صدر ممنون اشرف غنی سے ان کے حلف صدارت کی تقریب کے موقع پر ان سے کابل میں مل چکے ہیں۔

اس سے پہلے جنرل راحیل شریف کے افغانستان کے دورے کے موقع پر صدر اشرف غنی اور جنرل راحیل کے درمیان ملاقات ہو چکی ہے۔ جنرل راحیل شریف آئندہ دنوں امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں اس تناظر میں اس ملاقات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، جبکہ افغان صدر بھی پاکستان سے پہلے پاکستان کے روائتی دوست ملک چین کا دورہ کر چکے ہیں۔

اشرف غنی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی امور کے سلسلے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بھی دو طرفہ دلچسپی کے موضوعات پر بات کریں گے۔ واضح رہے اشرف غنی طویل عرصہ تک افغانستان کے وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اس ناطے ان کے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔۔

افغان صدر کا پاکستان کا دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں موجود امریکی افواج کے انخلا میں صرف ایک ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔ برطانیہ اور دوسرے اتحادی ممالک کے دستے وقفے وقفے سے افغانستان سے واپس جا چکے ہیں۔

افغان صدر کو امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں درپیش ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے غیر معمولی تعاون کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے طالبان کی کچلی نہ جا سکنے والی قوت افغانستان کے لیے سب سے بڑا درد سر ہو سکتا ہے۔

پاکستان بھی افغانستان میں موجود ایسے دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے افغان صدر سے اپنی تشویش کا اظہار کر سکتا ہے جو با آسانی سرحد کے آر پار آتے جاتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد افغانستان میں پناہ لے لیتے ہیں۔

پاکستان کے لیے افغانستان میں بھارت کی بڑھی ہوئی موجودگی اور کاروباری مفادات کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سرگرمیاں بھی تشویش کا موضوع ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر اشرف غنی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کس طرح توازن پیدا کرتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ ان کی خوشگوار تعلقات کی خواہش کے لیے یہ ایک بڑی آزمائش ہو گی۔

ان کا بطور صدر پاکستان کا پہلا دورہ پاکستان کے امریکی انخلاء کے بعد کے حالات کے لیے مضبوط اور صحت مندانہ دو طرفہ تعلقات کی بنیاد بھی بن سکتا ہے، بشرطیکہ پاکستان افغانستان میں بھارتی کردار کو سکیڑنے کی یقین دہانی پانے کے علاوہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کی بھی آئندہ دنوں جھلک دیکھ سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں