کابل، اسلام آباد کا مل کر دہشت گردی کے مقابلے کا اعلان

افغان صدر اشرف غنی اور وزیر اعظم نواز شریف کی مشترکہ نیوز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغان صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد اور کابل حکومتوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے پہلے دور روزہ سرکاری دورے کے آخری دن وفود کی سطح پر بات چیت کے بعد پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کو ماضی بھول کر مستقبل پر نظر رکھنا چاہیے۔

دونوں راہنماؤں نے سرحدی سلامتی، دفاع، افغانستان کی تعمیرنو و بحالی، افغان فورسزز کی استعداد کاری میں اضافے، پارلیمانی تبادلوں اور ثقافتی، تعلیم اور کھیلوں کے روابط سمیت تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے افغان مہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اشرف غنی کا دوسرا گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی اہم ہیں اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی امن و سلامتی ایک دوسرے سے منسلک ہے دونوں کو سیکیورٹی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک دہشت گردی اور شدت پسندی کے چیلنج سے مل کر نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان کو سیاسی اور معاشی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان افغان حکومت سے تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا، ’’میں اعادہ کرتا ہوں کہ پرامن، مستحکم، متحد اور مستحکم افغانستان پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔ میں افغانستان کی نئی حکومت کی جانب سے ملک میں شروع کیے گئے مفاہمتی عمل کی حمایت کا بھی اعادہ کرتا ہوں۔‘‘

افغان صدر اشرف غنی نے واہگہ بارڈر کے نزدیک ہوئے دہشت گردی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک غربت اور پسماندگی کے خاتمے پر متفق ہیں اور دونوں کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے دو طرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہم نے 13 سال کی تجارتی رکاوٹوں کو 2 دن میں حل کر لیا۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان خطے کی ترقی اور استحکام میں بھرپور کردار ادا کر سکتا ہے۔ اشرف غنی نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم کے افغانستان سے متعلق خیالات کو سراہتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے آپ کی یقین دہانی کو سراہتے ہیں۔ ایشیائی خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ ایک براعظمی حکومت کے قیام کے لیے اس تاریخی موقع کا ادراک کرے۔‘‘

درایں اثناء افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آبد کے شالیمار کرکٹ گراؤنڈ میں افغانستان اور پاکستان کی اے ٹیموں کے درمیان ایک دوستانہ میچ بھی دیکھا۔ اس دوستانہ میچ میں افغان ٹیم نے پاکستان اے کو چون رنز سے شکست دے دی۔ پاکستانی وزیر اعظم نے افغان صدر کو اس جیت پر مبارکباد دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں