کابل سرحدی انتظام میں پاکستانی تعاون کا خواہاں

افغان صدر کا بری فوج کے ہیڈکوارٹر کا دورہ، آرمی چیف سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ سکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور سرحدی انتظام میں تعاون چاہتا ہے۔

پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے بّری فوج کے ہیڈکوارٹر کا کیا، جہاں انہوں نے بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے وفد کو پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پاک فوج کے دستے نے افغان صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور افغان صدر نے آرمی چیف کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان کی اہمیت جی ایچ کیو میں دیے گئے استقبالیے سے واضح ہوتی ہے۔ اشرف غنی کو نہ صرف جی ایچ کیو کے دورے کی دعوت دی گئی بلکہ انھیں گارڈ آف آنر دیا گیا اور انھوں نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

بعض دفاعی تجزیہ کار اشرف غنی کے دورہ جی ایچ کیو اور وہاں اس خیر مقدم کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اپنے دس سالہ دور اقتدار میں راولپنڈی میں اس نوعیت کے خیر مقدم سے محروم رہے۔

بری فوج کے سربراہ راحیل شریف اور افغان صدر نے سکیورٹی سے متعلقہ امور اور دفاعی تعاون کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔

جی ایچ کیو میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ اعتزاز احمد چوہدری، سیکریٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسلم خٹک اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔

افغان صدر کے ہمراہ وزیر دفاع جنرل بسم اﷲ محمدی، افغان چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیر محمد کریمی اور سکیورٹی کے سینیئر حکام بھی تھے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آیا ہے جس میں تاجر برادری کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت سالانہ تجارت کا حجم ڈھائی ارب ڈالر ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور اُن کے افغان ہم منصب عمر زخی وال کے درمیان ہونے والی ملاقات میں موجودہ سالانہ دوطرفہ تجارت کے حجم کو آئندہ دو سے تین سال کے درمیان پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے صدر محمد زبیر موتی والا نے میڈیا کو بتایا کہ دوطرفہ تجارت کا فروغٖ یقینی طور پر ممکن ہے۔ لیکن اُن کے بقول اس کے لیے اعتماد کی فضا کی ضرورت ہے۔

افغان صدر کی ایک اہم ملاقات ہفتہ کو وزیر اعظم نواز شریف سے ہونی ہے جس میں حکام کے مطابق تمام دو طرفہ معاملات کے علاوہ علاقائی صورت حال پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد ان پڑوسی ملکوں کے تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہوں گے۔

پاکستانی عہدیدار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خود پاکستان کے مفاد میں ہے اور وہ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کے نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

افغانستان میں ستمبر میں شراکت اقتدار کے معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ پرامن انتقال اقتدار کا مرحلہ طے پایا تھا جس کے نتیجے میں اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ ملک کے پہلے چیف ایگزیکٹو مقرر ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے اعلیٰ پاکستانی عہدیدار بشمول فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں