.

آپریشن ضربِ عضب: پانچ ماہ میں 1200 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان آرمی نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب کے دوران گذشتہ پانچ ماہ میں قریباً بارہ سو مشتبہ طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے اور ان کی جوابی وار کرنے کی صلاحیت پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔

یہ بات شمالی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف آپریشن ضربِ عضب میں سکیورٹی فورسز کے انچارج میجر جنرل ظفراللہ خان نے صحافیوں کو بتائی ہے۔ان صحافیوں کو ہفتے کے روز طالبان جنگجوؤں سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں لے جایا گیا ہے اور انھوں بچشم خود صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''فوجی کارروائی کے بعد طالبان جنگجوؤں کی جانب سے جوابی حملوں کی توقع کی جارہی تھی لیکن ان کا ردعمل توقع سے کم رہا ہے''۔انھوں نے صحافیوں کو بعض ایسی تباہ حال عمارتیں دکھائیں جہاں طالبان جنگجو یرغمالیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا کرتے تھے یا پھر وہاں وہ پروپیگنڈے کے لیے ویڈیوز بنایا کرتے تھے۔

میجرجنرل ظفراللہ خان نے مُردے کے احترام کے پیش نظر کسی ہلاک شدہ جنگجو کی تصویر صحافیوں کو نہیں دکھائی اور بتایا کہ دوسوتیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اب تک ایک سو بتیس ٹن دھماکا خیز مواد، اسلحے اور گولہ بارود کی بھاری مقدار اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کو پکڑا گیا ہے۔انھوں نے امریکی ساختہ ایک ہومر جیپ بھی دکھائی جس کی ونڈسکرین گولیوں سے ٹوٹ پھوٹ چکی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں جگہ جگہ کھلونا بم نصب کیے گئے ہیں اور فوجی گھر گھر تلاشی لے کر انھیں ناکارہ بنا رہے ہیں۔ تاہم میجر جنرل خان نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب مزید کتنی دیر جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ جون میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف اس کارروائی سے قبل علاقے کے قریباً دس لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے اور وہ تب سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں خیمہ بستی یا پھر دوسرے علاقوں میں اپنے عزیزواقارب کے ہاں مقیم ہیں۔اب سردی میں شدت آنے کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جانے کے منتظر ہیں۔

پاک آرمی نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے دوران پہلے جنگی طیاروں سے مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی تھی اور اس کے بعد توپ خانے کے ساتھ زمینی کارروائی شروع کی تھی اور فوجی گھر گھر تلاشی کے بعد اب وہ علاقے کو دہشت گردوں اور بارود سے صاف کررہے ہیں۔

درایں اثناء شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں اتوار کو مشتبہ جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں چار فوجی شہید اور آٹھ لاپتا ہوگئے ہیں۔جنگجوؤں نے خودکار ہتھیاروں اور راکٹ گرینیڈوں سے چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔