پاکستان پہلے کشمیریوں سے بات کرے گا:نوازشریف

بھارت کے ساتھ مذاکرات کا عمل بعد میں شروع کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے کشیمریوں سے بات کرے گا اور اس کے بعد بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہوگا۔

وہ آزاد جموں وکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جمعرات کو کشمیر کونسل کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''پاکستان تو خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ملک ہے اور اس کی ایجنسیوں پر انتہا پسندی میں ملوّث ہونے کا الزام ایک صریح جھوٹ ہے''۔

انھوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی اب یہ بات سمجھتی ہے کہ بھارت کا اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ رویّہ متعصبانہ ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیےاپنا کردار ادا کرے۔

میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ ''ہمارا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ تنازعہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے۔میری حکومت نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کیا لیکن بھارت نے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح کی طے شدہ بات چیت کو منسوخ کردیا ہے''۔

میاں نواز شریف نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے اور اس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی غرض سے اپنا کردار ادا کرے۔تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ''میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کے آغاز سے قبل اب کشمیری قیادت کے ساتھ بات چیت کروں گا''۔

واضح رہے کہ بھارت نے اگست میں نئی دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی کشمیری حریت لیڈر شبیرشاہ کے ساتھ ملاقات کے بعد خارجہ سیکریٹریوں کی بات چیت کو منسوخ کردیا تھا۔بھارتی حکام نے پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ بھارت کو توڑنے والوں کے ساتھ ملاقاتیں کررہے ہیں جبکہ پاکستان کا دیرینہ موقف ہے کہ کشمیر ہرگز بھی بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔کشمیری اس تنازعے کے فریق ہیں اور اس تنازعے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق طے کیا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں