.

یورپی یونین کا پاکستان سے توہینِ رسالت قانون کی تنسیخ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی پارلیمان نے پاکستان سے توہینِ رسالت قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے اورکہا ہے کہ ان قوانین کو منسوخ کیا جائے کیونکہ یہ عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔

یوپی پارلیمان نے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک عیسائی عورت آسیہ بی بی کے کیس پر خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس عورت کو چار سال قبل ایک مسلم عورت کے ساتھ پانی کے ایک کٹورے سے پیدا ہونے والے تنازعے پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز کلمات کہنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے اس کو سزائے موت سنائی تھی۔

عدالت عالیہ لاہور نے گذشتہ ماہ اس کی سزائے موت برقرار رکھی تھی اور اس کی جانب سے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل کو مسترد کردیا تھا۔اس نے گذشتہ سوموار کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اپنی سزا کے خلاف حتمی اپیل دائر کردی ہے۔

یورپی پارلیمان کے ارکان نے فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں منعقدہ اجلاس میں ایک غیر پابند قرار داد منظور کی ہے۔اس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے قوانین کو احمدیوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتی گروپوں کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت سے متعلق قوانین اور ان کے اطلاق کے موجودہ طریق کار کا مکمل باریک بینی سے جائزہ لے کر انھیں منسوخ کرے۔اس میں حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت یا ملحد ہونے کے جرم سمیت سزائے موت کو یکسر ختم کردے۔

درایں اثناء یورپی پارلیمان کے قریباً پچاس ارکان نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان پر زوردیا گیا ہے کہ وہ پاکستان سے آسیہ بی بی کے معاملے میں رحم کا معاملہ کرنے کے لیے کہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 2008ء کے بعد سے کسی بھی جرم میں سنائی گئی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے اور نومبر2012ء میں صرف ایک فوجی کو کورٹ مارشل کے بعد پھانسی دی گئی تھی۔

پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی کو نومبر 2010ء میں ایک ماتحت عدالت نے پیغمبر اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اس نے 2009ء میں ایک مسلم خاتون کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے دوران توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے۔مجرمہ نے اس سزا کے خلاف عدالتِ عالیہ لاہور میں اپیل دائر کی تھی مگرعدالت کے دو رکنی بنچ نے اس کو سنائی گئی پھانسی کی سزا برقرار رکھی تھی۔

اس عورت کی سزائے موت کے خلاف اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے آواز اٹھائی تھی اور اس سے جیل میں ملاقات بھی کی تھی۔سلمان تاثیر اور پیپلز پارٹی کی سابق حکومت کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی نے توہین رسالت پر سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ان دونوں کو اس قانون کی مخالفت کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا۔

گورنر سلمان تاثیر کو ان کے اپنے ایک محافظ ممتاز قادری نے اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں گولی مار کر قتل کیا تھا۔وہ اس وقت راول پنڈی کی اڈیالا جیل میں قید ہے اور اس کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔اسی جیل میں قریباً دو ماہ قبل ایک پولیس اہلکار نے توہین رسالت کے جرم میں قید ایک ستر سالہ اسکاٹش شخص کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ذہنی مریض ہے۔اس کو بھی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی اور جیل میں پھانسی پانےکا منتظر تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں توہین رسالت ایک بہت حساس معاملہ ہے اور ملک کی مذہبی سیاسی جماعتیں اور دینی تنظیمیں یہ سزا ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ وہ ماضی میں ایسی کسی بھی کوشش کی سخت مزاحمت کرچکی ہیں۔ان کا موقف ہے کہ قانون کو ختم کرنے کے بجائے اس کے نفاذ کے طریق کار کو بہتر بنایا جائے۔

تاہم حالیہ برسوں کے دوران اس قانون کے تحت کسی مجرم کو دی گئی سزائے موت پر تو عمل درآمد نہیں کیا گیا لیکن مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کے الزام میں متعدد افراد کو اپنے طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا ہے اور ان کے خلاف عدالت میں مقدمات چلنے کی نوبت ہی نہیں آئی ہے۔حال ہی میں پنجاب کے ضلع قصور میں ایک عیسائی جوڑے کو قرآن کی توہین کے الزام میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔اس واقعہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ ملک کی دینی و سیاسی جماعتوں نے بھی شدی مذمت کی ہے۔