.

55 لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے:عمران خان

الیکشن کمیشن اور سابق چیف جسٹس پرانتخابی دھاندلیوں میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان نے الزام عاید کیا ہے کہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے پچپن لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز (ووٹ) چھپوائے تھے اور یہ ووٹ مسلم لیگ نواز اور دوسری جماعتوں کے امیدواروں کے حق میں ڈالے گئےتھے۔

عمران خان نے 14 اگست سے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے۔انھوں نے جمعہ کو نیوزکانفرنس میں انتخابی دھاندلیوں کے نئے ثبوت سامنے لانے کا اعلان کررکھا تھا۔انھوں نے آج صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسب سابق الزامات تو بہت لگائے ہیں لیکن کوئی بھی نیا ثبوت فراہم نہیں کیا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ انھوں نے یہ اعدادوشمار کہاں سے حاصل کیے ہیں اور ان کی اعتباریت کیا ہے؟

انھوں نے مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات کے لیے قائم کی گئی عبوری حکومتوں ،الیکشن کمیشن آف پاکستان ،ملک کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ سینیر جج خلیل الرحمان رمدے پر دھاندلیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب پی ٹی آئی کو ہرانے کے لیے ملے ہوئے تھے۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین نے اللہ کو تھرڈ امپائر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے 18 سال جدوجہد اس لیے نہیں کی کہ ملک میں مارشل لا آ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے دھرنا تو ابھی شروع ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ سابق حکمراں پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ اور مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں دھاندلی کی۔اس لیے اب آصف زرداری اور نواز شریف مل کر احتساب کو روک رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو انصاف مانگ رہی ہے، لوگوں کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا۔انھوں نے مسلم لیگ نواز کی کامیابی کے حوالے سے اپنے طور پر سوال اٹھایا کہ اس نے 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات میں 68لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے لیکن 2013ء میں اس جماعت کے حق میں ڈیڑھ کروڑ ووٹ کیسے پڑ گئے تھے۔پھر اس کا جواب ہی خود ہی دیا کہ ان ڈیڑھ کروڑ ووٹوں سے پتا چل گیا کہ بڑی دھاندلی ہوئی تھی۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عمران خان کی جانب سے اضافی بیلٹ پیپرز چھاپنے کے الزام کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ صرف دس لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے اور ان تمام کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

حکومت کی جانب سے جمعہ کو وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کے جواب میں ایک دھواں دار نیوزکانفرنس کی ہے اور اس میں انھیں خوب بے نقط سنائی ہیں۔انھوں نے عمران خان کے انتخابی دھاندلیوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے سروپا باتیں کرنے کے بجائے ٹھوس ثبوت پیش کریں اور اگر وہ سچے ہیں تو انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں سے رجوع کریں۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان وزیراعظم بننے کا خواب پورا کرنے کے لیے مسلم لیگ نواز کی حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور وہ محض ہوائی باتیں کررہے ہیں۔وہ نیا خیبر پختونخوا تو بنا نہیں سکے ہیں بلکہ اس کا اب سواستیاناس کردیا ہے۔

درایں اثناء حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو 30 نومبر اتوار کو اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جلسے سے متعلق تمام معاملات طے پاگئے ہیں اور کسی کو بھی ان کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہوگی۔انھوں نے انٹیلی جنس اداروں کے حوالے سے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔