عمران خان کی پاکستان کو بند کرنے کی دھمکی

حکومت کے خلاف لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں جلسوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چئیرمین عمران خان نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کے پلان سی کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اگر چار حلقے نہ کھولے گئے تو وہ اب لاہور ،فیصل آباد ، کراچی اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں جلسے کریں گے اور پہیّہ جام کردیں گے۔

عمران خان اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اتوار کی شب اپنی تقریر میں حسب سابق گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلیوں سے متعلق اپنے سابقہ الزامات کا اعادہ کیا ہے اور صرف یہ اضافہ کیا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے ستر لاکھ بیلٹ پیپرز شائع کیے تھے اور یہ تمام ووٹ مسلم لیگ نواز کے حق میں ڈالے گئے تھے۔جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے اضافی بیلٹ پیپرز کی تعداد پچپن لاکھ بتائی تھی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت ان کے مطالبے کے مطابق چار انتخابی حلقوں کو کھولے اور امیدواروں کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں دوبارہ گنتی کی جائے۔اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جمعرات چار دسمبر کو لاہور میں جلسہ کریں گے اور اس کو بند کردیں گے۔آٹھ دسمبر کو وہ فیصل آباد کو بند کردیں گے۔وہ 12 دسمبر کو کراچی جائیں گے اور اس کو بند کردیں گے اور 16 دسمبر کو سقوط مشرقی پاکستان کی برسی کے موقع پر پورے پاکستان ہی کو بند کردیں گے۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین نے دعویٰ کیا کہ ''میں جانتا ہوں کہ لاہور تیار ہے۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمام فیصل آباد تیار ہے اور کراچی والے میرے منتظر ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''وہ آیندہ جمعرات کو اپنے پلان ڈی کا اعلان کریں گے''۔

انھوں نے گذشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں چار سے چھے ہفتے کے دوران نتیجہ چاہتے ہیں۔انھوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر آپ نے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات نہ کرائیں تو پہلے ہم سولہ دسمبر کو پورے پاکستان کو بند کریں گے اور اس کے بعد ہم جو کچھ کریں گے،وہ آپ برداشت نہیں کرسکیں گے۔

عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف اور سابق حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں نے مل کر 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔الیکشن کو فکس کیا تھا اور پی ٹی آئی کو ہرایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ان کے احتجاجی دھرنے کو 109 دن گزر چکے ہیں، اب ہر دن کے ساتھ ایک نیا پاکستان معرض وجود میں آرہا ہے۔

پی ٹی آئی نے 14 اگست سے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے۔عمران خان نے جمعہ کو نیوزکانفرنس میں مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات کے لیے قائم کی گئی عبوری حکومتوں ،الیکشن کمیشن آف پاکستان ،ملک کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ سینیر جج خلیل الرحمان رمدے پر دھاندلیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سب پی ٹی آئی کو ہرانے کے لیے ملے ہوئے تھے۔آج کی تقریر میں بھی انھوں نے اس الزام کا اعادہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے لیڈر یہ کہتے رہے ہیں کہ گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی لیکن پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو انصاف مانگ رہی ہے، لوگوں کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا؟پی ٹی آئی کے جلسے میں وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے بھی جذباتی انداز میں تقریر کی۔عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید احمد نے ایک مرتبہ پھر اشتعال انگیز تقریر کی اور لوگوں سے کہا کہ وہ عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں اور اس نظام کو تہس نہس کردیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں