.

جسٹس سردار رضا خان چیف الیکشن کمشنرمقرر

ڈیڑھ سال سے خالی کرسی کو بالآخر صدر نشین مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سابق سینیر جج ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا خان کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کردیا گیا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ رفیق رجوانہ نے کمیٹی کے فیصلے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ سردار رضا خان کی نامزدگی متفقہ طور پر کی گئی ہے۔اس کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف کی ایڈوائس پر صدر ممنون حسین نے جسٹس سردار رضاخان کے چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان کی حیثیت سے باضابطہ طور پر تقرر کی منظوری دے دی ہے اور اس ضمن میں نوٹی فیکشن جاری کردیا گیا ہے۔توقع ہے کہ وہ جمعہ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

حکومت اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے بدھ کو چیف الیکشن کمشنر کے لیے تین ریٹائرڈ ججوں کے ناموں پر اتفاق کیا تھا۔ان میں سردار محمد رضا، جسٹس طارق پرویز اور جسٹس تنویر احمد خان شامل تھے۔

آئین کے تحت وزیر اعظم قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے تین امیدواروں کے نام حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں اور پھر کمیٹی ان میں سے کسی ایک کا اس عہدے کے لیے انتخاب کرتی ہے جس کا تقرر پھر صدرِ مملکت کرتے ہیں۔

پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ فخرالدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے بعد سے لگ بھگ ڈیڑھ سال سے خالی تھا۔

عدالت عظمیٰ نے حکومت اور قائد حزب اختلاف کو ہدایت کی تھی کہ وہ پانچ دسمبر تک چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے آئین کے مطابق نامزدگی کا اعلان کر دیں بصورت دیگر اُن کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سوانحی خاکہ

نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ سنہ 1945 میں پیدا ہوئے تھے۔ابتدائی تعلیم خیبر پختونخوا سے ہی حاصل کی اور پھر اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

سردار رضا خان سنہ 1976ء میں سول جج اور سینئیر سول جج کے عہدے پر فائز رہے اور بعدازاں اُنھیں ایڈیشنل سیشن جج کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ سردار رضا خان کو سنہ 1993ء میں پشاور ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج تعینات کیا گیاتھا۔ سنہ 2000ء میں اُنھیں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔

جسٹس سردار رضا خان پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے اُن ججوں میں شامل تھے جنھوں نے 26 جنوری 2000ء کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پہلے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لیا تھا۔

جسٹس سردار رضا خان کو سنہ 2002ء میں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 ء کو ملک میں سپریم کورٹ کے دوسرے ججوں کے ساتھ انھیں بھی ایمرجنسی کے دوران گھروں میں نظر بند کردیا تھا، تاہم اُنھوں نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے دور میں 19 ستمبر 2008 کو دوبارہ اپنے عہدے کا حلف اُٹھا لیا تھا۔

جسٹس سردار رضا خان سنہ 2010 میں عدالت عظمیٰ کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوگئے تھے۔ اس عرصے کے دوران اُنھیں سپریم کورٹ کی طرف سے مختلف امور کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی سربراہی کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی تھیں۔

جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کو اس سال جون میں فیڈرل شریعت کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔اس سے پہلے وہ لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ کی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے رہے ہیں۔