.

فیصل آباد میں تحریک انصاف کا پرتشدد احتجاج، ایک ہلاک

نوجوان کی ہلاکت پر منگل کو ملک گیر سوگ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے فیصل آباد میں احتجاج کے دوران مسلم لیگ ]ن[ کے کارکنوں سے ایک جھڑپ میں ایک نوجوان حق نواز کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گیا ہے۔

فیصل آباد میں نوجوان کی ہلاکت کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اتحادی دینی جماعتوں نے کل منگل نو دسمبر کو ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ کئی شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

لاہور میں مرکزی شاہراہ مال روڈ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ اسلام آباد میں ایکسپریس وے بھی احتجاجی مظاہرین نے بلاک کر رکھی ہے جبکہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا ہے۔ حیدر آباد میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ [نواز] کے کارکنوں میں جھڑپوں کے دوران ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

سب سے کشیدہ صورتحال اس وقت فیصل آباد میں ہے جہاں معمول کی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں۔ احتجاجی مظاہرین کی طرف سے مسلم لیگی رہنما رانا ثنااللہ کی رہائش گاہ پر پتھراؤ بھی کیا گیا ہے۔

مشتعل احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے لیے وقفے وقفے سے پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج بھی کیا جا رہا ہے۔ شہر میں اس وقت خوف کا سماں ہے، تمام دوکانیں بند ہیں، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے آج پیر آٹھ دسمبر کو فیصل آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ پیر کی صبح جھنگ روڈ، سمندری روڈ، جڑانوالا روڈ، نشاط آباد، ستیانہ روڈ، غلام محمدآباد اور مدینہ ٹاؤن کے علاقوں میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ [ن] کے کارکن بھی احتجاجی علاقوں میں آ گئے اور ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ نعرے بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے تیز دھار پانی کا بھی استعمال کیا۔ اسی دوران ناولٹی پل کے قریب ایک نامعلوم شخص کی فائرنگ سے پی ٹی آئی کا اصغر علی نامی ایک کارکن ہلاک ہو گیا۔ جبکہ متعدد دیگر زخمی افراد کو مقامی ہسپتال میں طبی امداد دی جا ری ہے۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی فیصل آباد پہنچ چکے ہیں جہاں وہ کارکنوں سے خطاب کرنے والے ہیں۔