.

نوبل امن انعام ملالہ اور کیلاش کے سپرد

پاکستانی طالبہ کا ہربچے کے اسکول جانے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی نوعمر طالبہ ملالہ یوسف زئی اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بچوں کے حقوق کے علمبردار کیلاش ستیارتھی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقدہ ایک تقریب میں مشترکہ طور پر اس سال کا نوبل امن انعام وصول پالیا ہے۔

سترہ سالہ ملالہ یوسف زئی نے بدھ کو اوسلو کے سٹی ہال میں منعقدہ تقریب میں انعام وصول پانے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہر بچے کے اسکول جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔انھوں نے دنیا میں شفافیت اور امن کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''بالغوں کی یہ دنیا تو شاید اس طرح کی باتوں کو سمجھ جائے لیکن ہم بچے نہیں سمجھ سکتے''۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ ''جن ممالک کو ہم بہت زیادہ مضبوط خیال کرتے ہیں وہ جنگوں کو چھیڑنے میں اتنے طاقتور کیوں ہیں اور دنیا میں امن لانے میں کیوں کم زور ہیں؟''

ملالہ کا کہنا تھا کہ ''لوگوں کو ہتھیار دینا کیوں آسان ہے لیکن کتابیں دینا کیوں مشکل ہورہا ہے؟ٹینک بنانا کیوں آسان مگر اسکولوں کی عمارتیں بنانا کیوں مشکل ہے؟''ملالہ کی اس تقریر کے دوران ان پر دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے جارہے تھے اور سامعین قہقہے بھی بکھیر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ بچوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کے ساتھ بھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے سالہا سال سے جدوجہد کرنے والے کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر اس سال کانوبل امن انعام دیا گیا ہے۔ ان دونوں کو نوبل امن انعام کے میڈل اور سرٹیفیکیٹ کے ساتھ کے ساتھ 12 لاکھ ڈالرز دیے گئے ہیں اور ان میں یہ رقم برابر تقسیم کی گئی ہے۔

پاکستانی طالبہ نے نوبل انعام کے ساتھ ملنے والی رقم کو اپنے قائم کردہ ''ملالہ فنڈ'' میں دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اس کو بچیوں کو معیاری تعلیم مہیا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔اس سے پاکستان اور خاص طور پر میرے آبائی علاقے سوات اور شانگلہ میں اسکول تعمیر کیے جائیں گے''۔

قبل ازیں ناروے نوبل کمیٹی کے چئیرمین تھوربژورن جاگلینڈ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ''کیلاش ستیارتھی اور ملالہ یوسف زئی سے بہتر دنیا کے ضمیر کا اظہار نہیں ہوسکتا۔ایک نوجوان لڑکی ہے اور ایک ادھیڑ عمر شخص۔ایک کا تعلق پاکستان سے ہے اور ایک کا بھارت سے۔ایک مسلمان ہے اور دوسرا ہندو۔یہ دونوں دنیا کو درکار قوموں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارگی کی علامت ہیں اور یہ دونوں امن کے چیمپئن ہیں''۔

پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان نے بھی اوسلو میں منعقدہ تقریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ میں ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام وصول پانے پر مبارک باد دی ہے۔

ملالہ کی اس وقت عمر صرف سترہ سال ہے اور وہ اب تک نوبل امن انعام جیتنے والی شخصیات میں سب سے کم عمر ہیں۔انھوں نے صرف گیارہ سال کی عمر میں پاکستان کے شمال مغربی علاقے وادی سوات میں بچیوں کی تعلیم کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا اور ٹی وی انٹرویوز میں بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھائی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں نے 2009ء میں ملالہ کے آبائی شہر مینگورہ سمیت پوری وادی سوات پر قبضہ کر لیا تھا۔انھوں نے بچوں اور بچیوں کے اسکولوں کو بموں سے اڑا دیا تھا۔معلمات اور طالبات کو ہراساں کیا اورانھیں برقع اوڑھنے پر مجبور کیا تھا۔

9 اکتوبر 2012ء کو طالبان کے مسلح افراد نے مینگورہ میں ایک اسکول وین میں گھس کر ملالہ یوسف زئی کو گولیاں مار دی تھیں لیکن خوش قسمتی سے کوئی گولی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی تھی اور پاکستان آرمی نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمی طالبہ کو فوری طور پر شمال مغربی شہر پشاور منتقل کردیا تھا اور وہاں سے انھیں علاج کے لیے برطانیہ لے جایا گیا جہاں ملکہ الزبتھ اسپتال برمنگھم میں وہ زیر علاج رہی تھیں۔وہ صحت یاب ہونے کے بعد سے وہیں اپنے والدین اور دو بھائیوں کے ساتھ مقیم ہے۔

اس دوران ملالہ یوسف زئی کی مغربی ذرائع ابلاغ میں خوب پذیرائی ہوئی تھی اور انھیں انسانی حقوق کے متعدد اعزازات سے نواز گیا تھا۔ان میں یورپی پارلیمان کا سخاروف ایوارڈ بھی شامل ہے۔اںھوں نے گذشتہ سال مارچ میں مکمل صحت یابی کے بعد اسکول جانا شروع کیا تھا۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سالہ کیلاش ستیارتھی نے نوبل امن انعام کو بچوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد کا ثمر قرار دیا ہے۔وہ پیشے کے اعتبار سے ایک الیکٹریکل انجنئیر ہیں۔انھوں نے 1980ء کے عشرے میں بچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی غرض سے اپنے اس پیشے کو خیرباد کَہ دیا تھا۔وہ بچوں سے جبری مشقت اور انھیں غلامی سے نجات دلانے کے لیے عالمی تحریک میں شامل ہوگئے تھے۔انھوں نے ہزاروں بچوں کو بانڈڈ لیبر اور غلامی سے نجات دلائی تھی اور ان کی تعلیم اور بحالی کے لیے ایک کامیاب ماڈل تیار کیا تھا۔