.

سانحہء پشاور، وزیر اعظم کی زیر صدارت پارلیمانی قائدین کا اجلاس

پورا پاکستان سوگوار، قومی پرچم سرنگوں، کاروباری مراکز اور عدالتیں بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منگل کے روز آرمی پبلک سکول پر ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ملک بھر میں سرکاری اور عوامی طور یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے منگل کی شام پورے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔

دہشت گردی میں مجموعی طور پر 141 افراد شہید ہوئے جن میں ایک سو بتیس طلبہ شامل ہیں۔ شہداء میں اکثر کی نماز جنازہ گذشتہ روز ہی ادا کر دی گئی تھی۔ البتہ بعض شہدا کی نماز جنازہ آج ادا کی گئی ہے۔

تین روزہ یوم سوگ کے پہلے روز کے موقع پر تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم کو سر نگوں کیا گیا ہے۔ ملک کے تمام اہم صنعتی و تجارتی مراکز سانحہ پشاور کے حوالے سے بند ہیں جبکہ ملک بھر کے وکلاء نے بھی آج ہڑتال کی اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں بھی سماعت نہیں ہوسکی۔ پشاور میں تین دن کے لیے تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قومی قیادت کے ساتھ صلاح مشورے کے لیے وزیراعظم میاں نواز شریف نے پشاور میں ہی پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ اجلاس دن کے ساڑھے گیارہ بجے وزیر اعظم کی زیر صدارت شروع ہوا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں حکومت کے خلاف چار ماہ سے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کےسربراہ عمران خان بھی شرکت کر رہے ہیں۔

منگل کا دن پاکستانی قوم کے لیے اس حوالے سے سخت صدمے کا باعث رہا ہے کہ ایک جانب قوم یوم سقوط ڈھاکہ کی غم ناک یاد منا رہی تھی کہ اسی روز دہشت گردوں نے پاک آرمی کے زیر انتظام سکول میں گھس کر ایک سو بتیس طلبہ اور نو سٹاف ممبران کو شہید کر دیا۔

اس سانحے کی خبر ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر ہر شخص کو سوگوار کر گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف سانحے کی خبر پر فوری پشاور پہنچ گئے جبکہ آرمی چیف نے کوئٹہ میں اپنی مصروفیات ترک کر کے پشاور کا رخ کیا۔

تحریک انصاف جو صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت ہے، کے سربراہ نے منگل کی شام حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور 18 دسمبر کی اپنی ملک گیر شٹر ڈاون کی اپیل موخر کردی جبکہ عمران خان فوری طور پر پشاور چلے گئے۔

اس اندوہناک واقعے پر ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے دلی دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے جبکہ سیاسی قیادت نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا اعادہ اور فوجی قیادت نے دہشت گردوں اور ان کے سر پرستی کرنے والوں کا ہر جگہ پیچھا کرنے کا عزم کیا ہے۔

پاکستان کے کونے کونے میں آج جہاں ان معصوم بچوں اور آرمی پبلک سکول کے بے گناہ سٹاف کے لیے سوگ منایا جا رہا ہے، دعائے مغفرت کی جارہی ہے وہیں ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر غیر ملکی پروازوں کی پشاور ائیر پورٹ پر آمدورفت کو روک دیا گیا ہے، توقع کی جارہی ہے کہ فوجی قیادت دہشت گردوں کے لیے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں جاری کارروائیوں میں نہ صرف شدت لائے گی بلکہ اس آپریشن کا دائرہ بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر- ون کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام حصوں میں دہشت گردوں کی گرفتاریوں کے لیے بھی مہم کئی ہفتوں سے شروع کر رکھی ہے تاکہ دہشت گردوں کے ملک کے اندر موجود ٹھکانوں کو بھی ختم کیا جاسکے۔

امریکی صدر براک اوباما، ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے فون کر کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔ دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس سانحے پر رنجیدہ ہیں۔

آج ملک کے گئی شہروں اور قصبات میں آرمی پبلک سکول کے شہداء کے لیے تعزیتی تقریبات اور دعائیہ محافل کے انعقاد کے علاوہ ریلیاں بھی نکالی گئی ہیں۔ ملک بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے علاوہ تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے بھی سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کوئٹہ، کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، مظفر آباد، فیصل آباد، ملتان، سکھر اور حیدر آباد سمیت ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں ان ننھے شہداء کے ساتھ پیش آنے والے سانحے کی مذمت کی جارہی ہے اور ان کے والدین و لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جارہا ہے۔

اس سلسلے کی اہم ترین سرگرمی ملک کی پارلیمانی اور سیاسی قیادت کا ساڑھے گیارہ بجے دن پشاور میں شروع ہونے والا اجلاس ہے جس میں دہشت گردی کے حوالے سے اندرونی اور بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ملک میں جاری حالیہ سیاسی سیاسی کشیدگی کے باوجود تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ رہی ہیں۔