.

سانحہ آرمی پبلک سکول، جنرل راحیل افغانستان روانہ

آرمی چیف کی روانگی کی خبر وزیراعظم نے پارلیمانی اجلاس میں دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختوخوا کے آرمی پبلک سکول کے سانحے کے حوالے سے سامنے آنے والے شواہد کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ہنگامی دورے پر افغانستان روانہ ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اپنے ہنگامی دورہ کابل کے دوران افغان صدر اشرف غنی اور افغان ہم منصب کے علاوہ ایساف کمانڈرز سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

منگل کی شام پاک فوج کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی آرمی پبلک سکول میں کارروائی کے دوران "واکی ٹاکی" پر کہاں اور کس سے بات ہوتی رہی ہے، اس حوالے سے اطلاعات مل چکی ہیں اور رابطے مانیٹر بھی کیے گئے ہیں۔

تاہم ترجمان نے اپنی بریفنگ میں واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ننھے بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کا کس ملک میں یا کہاں پر اپنے سرپرستوں سے رابطہ تھا۔

اب وزیر اعظم نے پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کے بعد اپنی گفتگو کے آغاز میں ہی افغان صدر کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیا اور آرمی چیف جنرل راحیل کی افغانستان روانگی کی خبر دی۔ جس کے بعد یہ از خود واضح ہو گیا ہے کہ سکول میں سانحہ کے تانے بانے کہاں بنے گئے تھے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے اس واقعے کے تناظر میں افغان صدر سے ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہنا تھا کہ "ایک اچھے آغازاور اچھے فیصلے پر پانی نہیں پحرنا چاہیے بلکہ عمل ہونا چاہیے۔" میاں نواز شریف نے اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی سے منگل کی رات ہونے والی بات چیت کا بھی ذکر کیا۔

دفاعی ماہرین کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس سانحے کے پس پردہ بھارتی انٹیلی جنس کے کردار کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ افانستان ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرتا ہے یا نہیں اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کب شروع کرتی ہے۔

دریں اثناء یہ بھی خبر سامنے آئی ہے کہ وزیر اعظم نے ملک میں سزائے موت کے فیصلوں پر عملدار روکنے جانے کے اپنے حکم کو واپس لے لیا ہے۔ پاکستان میں زرداری دور میں سزائے موت کے فیصلوں پر عمل در آمد روک دیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھی کافی فائدہ ہوا تھا۔