.

عمران خان نے احتجاجی دھرنا ختم کردیا

پشاور میں دہشت گرد حملے کے بعد پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے دوسرے شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

انھوں نے بدھ کے رات اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے اپنی جماعت کے دھرنے کے شرکاء سے تقریر میں کہا کہ ''ملک کی موجودہ صورت حال اور پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے پیش نظر پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے اپنی احتجاجی تحریک اور دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے''۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت قومی اتحاد کا متقاضی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے اپنی پوری زندگی میں اس طرح کا ظلم نہیں دیکھا ہے۔میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا کوئی بچوں کو اس طرح سے بھی قتل کرسکتا ہے۔اگر کوئی میرے بچوں کو اس طرح قتل کرے گا تو میں اس کا انتقام لوں گا''۔

عمران خان نے قبل ازیں پشاور میں وزیراعظم میاں نوازشریف کے زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کی اور اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے تو میاں نواز شریف کے ساتھ بیٹھنے میں متردد تھے لیکن انھوں نے ملک اور قوم کے مفاد میں کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔

پی ٹی آئی کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ ''میں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران دیکھا ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ہم نے ملک میں تاریخی ریلیاں منعقد کی ہیں اور ان میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے''۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔اگر یہ عدالتی کمیشن چھان بین کے بعد انتخابی دھاندلیوں کا سراغ لگا لیتا ہے تو پھر وزیراعظم کو مستعفی ہونا پڑے گا۔

وزیراعظم میاں نوازشریف نے عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ خان صاحب اسمبلی میں آئیں اور ان کے مطالبے کے مطابق عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے پندرہ اگست سے اسلام آباد میں حکومت کے خلاف گذشتہ انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا۔پہلے ان کے ساتھ اس حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک بھی شریک تھی اور اس نے بھی اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دے رکھا تھا لیکن علامہ صاحب چند ہفتے قبل اچانک دھرنا ختم کرکے بیرون ملک چلے گئے تھے۔