.

پاکستان میں آیندہ چند ہفتوں میں 500 پھانسیاں

پشاور واقعے کے بعد دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کے بعد آیندہ ہفتوں کے دوران قریباً پانچ سو سزا یافتہ دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

گذشتہ منگل کو شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف نے دہشت گردی سے متعلق کیسوں میں سزایافتہ قیدیوں کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد سے چھے سزایافتہ مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جاچکا ہے۔ وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو عدالتوں میں دہشت گردی سے متعلق زیر التوا کیسوں کو جلد نمٹانے کے لیے اقدامات کی بھی ہدایت کی ہے۔

ایک سرکاری عہدے دار نے بتایا ہے کہ وزارت داخلہ نے پھانسی کی سزائیں پانے والے پانچ سو مجرموں کے کیسوں کو فائنل کر لیا ہے،ان تمام مجرموں کی اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں اور صدر ممنون حسین نے بھی ان کی رحم کی اپیلیں مسترد کردی تھیں۔انھیں اب آیندہ چند ہفتوں میں تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

پاکستان میں جمعے کے بعد سے چھے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ان میں ایک مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان راول پنڈی میں واقع پاکستان آرمی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو) پر10 اکتوبر 2009ء کو حملے میں ملوث تھا اور پانچ مجرم سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف پر 25 دسمبر 2003ء کو خودکش قاتلانہ حملے میں ملوث تھے۔ان تمام چھے افراد کو ایک فوجی عدالت نے موت کی سزائیں سنائی تھیں۔

پشاور میں دہشت گردی کے الم ناک واقعے کے بعد سے ملک بھر میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور ہوائی اڈوں ،سرکاری تنصیبات اور جیلوں پر سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے ملک کے قبائلی علاقوں میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔گذشتہ چار روز کے دوران پاک فوج کے قبائلی علاقوں میں فضائی حملوں میں بیسیوں مشتبہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

بڑے شہروں میں بھی دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سوموار کو ایسی ہی ایک کارروائی میں پولیس نے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے تیرہ مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مارا تو ان پر وہاں سے فائرنگ کی گئی جس کے بعد انھوں نے جوابی کارروائی کرکے تیرہ دہشت گردوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے۔ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں گولہ وبارود بھی برآمد ہوا ہے۔