.

''دہشت گردی: دلیرانہ فیصلوں کا وقت آ گیا''

غیر معمولی صورت حال غیر معمولی فیصلوں کی متقاضی ہے: نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب دلیرانہ فیصلہ کا وقت آگیا ہے اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں غیرمعمولی صورت حال غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے۔

آرمی چیف اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نوازشریف کے زیر صدارت پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے دہشت گردی کے ناسُور کو ہمیشہ کے لیے اور ایک ہی مرتبہ ختم کرنا ہوگا''۔

قبل ازیں آرمی چیف نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جاری آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ اب تک اس کارروائی میں دو ہزار ایک سو دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک سو نوّے فوجی شہید ہوئے ہیں۔

انھوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر گذشتہ منگل کو دہشت گردوں کے حملے کو بزدلانہ فعل قراردیا اور کہا کہ ''اس حملے میں ملوث دہشت گرد نہ صرف پاکستان بلکہ انسانیت کے بھی دشمن ہیں''۔دہشت گردوں کے اس سفاکانہ حملے میں ایک سو تینتیس بچوں سمیت ایک سو انچاس افراد شہید ہوگئے تھے۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اجلاس کے شرکاء کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔انھوں نے اس موقع پر صوبہ سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں سے کہا ہے کہ اگر ان کی جانب سے آئین کی دفعہ 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کے لیے درخواستیں نہ کی گئیں تو ان تین صوبوں میں اس وقت فورسز کی معاونت کے لیے تعینات فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''آپریشن ضربِ عضب کے بعد حکومت اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ پولیس دہشت گردوں کے ممکنہ جوابی ردعمل سے نمٹنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لہٰذا اس صورت حال میں آرمی چیف نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین کی دفعہ 245 کے تحت پاک فوج کو طلب کریں تو وہ گڑ بڑ والے علاقوں میں فوجیوں کی تعیناتی کو تیار ہیں''۔

چودھری نثار نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں دس ہزار فوجی تعینات ہیں لیکن وفاق اور پنجاب حکومت کے سوا باقی تین صوبوں نے فوج کی تعینات کی درخواست نہیں کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کی آئین کے تحت تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے عدالتیں معترض ہوسکتی ہیں۔وہ سوال اٹھاتی ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے اجلاس کے آغاز کے موقع پر آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد تمام جماعتوں کی جانب سے حکومت اور آرمی کی حمایت اور اظہار یک جہتی پر شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ ''جس سفاکانہ انداز میں بچوں کو قتل کیا گیا،اس کی اس ملک یا دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔یہ ملک میں ایک غیر معمولی صورت حال ہے اور یہ غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے''۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ''دہشت گردی سرطان کی طرح کا مرض ہے،اگر اس کا اب علاج نہ کیا گیا تو ہمیں تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ہم سب پر یہ ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ ہم اس ملک کو تار تار کرنے اور بچوں کو قتل کرنے والوں کے خلاف سخت فیصلے کریں کیونکہ وہ سنگ دل ہیں اور ان کے خلاف سخت اقدامات ہی کیے جانے چاہئیں''۔

پارلیمانی لیڈروں کے اس اجلاس میں ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مجوزہ ایکشن پلان پر غور کیا گیا ہے۔اجلاس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ،جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان تحریکِ انصاف کے چئیرمین عمران خان ،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک تھے۔