.

خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سینیر سول جج ثاقب جاوید نے مشہور زمانہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

ان کے خلاف یہ وارنٹ سول سوسائٹی کی جانب سے دائرکردہ درخواست کی سماعت کے دوران جمعہ کو جاری کیے گئے ہیں۔تفتیشی افسر نے عدالت سے مولانا عبدالعزیز کے خلاف تھانہ آب پارہ میں دائر ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) کی بنا پر تحقیقات کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔

لال مسجد شہداء فاؤنڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام نے عدالت کے حکم کے ردعمل میں کہا ہے کہ مولانا عبدالعزیز اپنی گرفتاری کی مزاحمت کریں گے۔انھوں نے کہا کہ حال ہی میں سیاسی لیڈروں کے خلاف مختلف کیسوں میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں لیکن انھوں نے اپنی گرفتاری نہیں دی ہے۔

ترجمان نے اس ضمن میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے چودہ کارکنان کے قتل اور اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملے کے واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کے نامزد ملزمان کو آج تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔اس لیے مولانا عزیز بھی اپنی گرفتاری کی مزاحمت کریں گے۔

سول سائٹی نے تھانہ آب پارہ میں گذشتہ ہفتے مولانا عبدالعزیز کے خلاف پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 506(2) کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے پشاور میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت نہیں کی تھی اور اس حملے میں شہید ہونے والے طلبہ کو بھی شہید کہنے سے انکار کردیا تھا۔

ان کے اس مؤقف کے خلاف غیر سرکاری تنظیموں(این جی اوز) پر مشتمل سول سائٹی کے ارکان نے گذشتہ جمعہ کو لال مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے مسجد کے باہر شدید نعرے بازی کی تھی اور کئی گھنٹے تک سڑک کو بلاک کیے رکھا تھا۔

تھانہ آب پارہ میں سول سوسائٹی کے ان ارکان کے خلاف بھی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ان کے خلاف یہ ایف آئی آر لال مسجد انتظامیہ کی درخواست پر درج کی گئی تھی۔مظاہرین پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے مسجد کی انتظامیہ کے خلاف منافرت آمیز تندوتیز تقاریر کی تھیں۔

لال مسجد کے باہر مظاہرے کو منظم کرنے والے سول سوسائٹی کے کارکن جبران ناصر نے پولیس سے مولانا عزیز کے خلاف ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے اور انھیں آج جمعہ کی شام تک گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے ہیں تو پھر وہ اپنے نیا لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ سول سوسائٹی نے جن دفعات کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے،ان کے تحت ملزم کی ضمانت نہیں ہوسکتی ہے اور اگر مولانا ضمانت قبل از گرفتاری کرالیتے ہیں تو اس کے باوجود پولیس کو انھیں گرفتار کرنا ہوگا۔