.

پاکستان، پھانسی کی سزا ختم کی جائے: بان کی مون

بان کی مون کا پاکستان کے وزیر اعظم سے اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں انتہائی سزا یعنی سزائے موت کے خاتمے اور پہلے کی طرح سزائے موت کے فیصلوں پر عمدر آمد کر موخر رکھنے پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے فون پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے سانحہ پشاور میں جاں بحق ہونے والے ایک سو چونتیس سے زائد طلبہ اور ایک درجن کے لگ بھگ سکول کے سٹاف ممبران کے بہیمانہ دہشتگردی میں لقمہ اجل بننے پر اظہار تعزیت بھی کیا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس فون کال کے موقع پر پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے مشکلات کا اعتراف کیا تاہم ان کا موقف تھا کہ انتہائی سزا کا خاتمہ ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے سزائے موت سے متعلق فیصلوں پر پچھلے برسوں کی طرح پابندی عاید کرنے کے لیے بھی کہا۔

اس موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو یقین دلایا کہ پاکستان قانون کی اقدار کا احترام کرتا رہے گا۔ واضح رہے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چھ برسوں تک سزائے موت کے فیصلوں کو موخر رکھنے کی پالیسی کو اپنے نئے حکم نامے سے ختم کر دیا ہے اور اب پھر سے پاکستان میں دہشت گردوں اور قاتلوں کو پھانسیاں ملنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

پہلے مرحلے پر مشہور زمانہ دہشت گردوں کے واقعات میں ملوث چند افراد کو پھانسیاں ہو چکی ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر پانچ سو کے قریب دہشت گردوں کو آئندہ ہفتوں یا مہینوں میں پھانسیاں ملنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سینکڑوں سزائے موت کے ایسے قیدی بھی ہیں جنہیں قتل یا ٹارگٹ کلنگ کے جرم میں سزاٗئے موت سنائی جا چکی ہے تاہم عمل درآمد ہونا باقی ہے۔