.

پاکستان امریکی جاسوس ڈرامے ''ہوم لینڈ'' پر نالاں

ڈرامے میں حساس موضوع کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے حکام نے امریکا کے سراغرسانی کے موضوع پر بنائے گئے ڈرامے ''ہوم لینڈ'' کے مندرجات اور اس کی پیش کاری اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔اس ڈرامے میں پاکستان کے طاقتور خفیہ ادارے کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔

اس ڈرامے میں کلئیر ڈنیس اور کیری میتھیسن کردار ادا کررہے ہیں،اس کی کہانی افغان طالبان کے گروپ حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کے خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے درمیان مبینہ تعلقات کے گرد گھومتی ہے۔

ایک پاکستانی عہدے داروں نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس شو میں یہ کَہ کر پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں کی توہین کی گئی ہے کہ آئی ایس آئی نے اپنے ہی شہریوں کی جانوں کی قیمت پر جنگجوؤں کا تحفظ کیا ہے''۔

''ہوم لینڈ'' ڈرامے کا اس وقت چوتھا سیزن چل رہا ہے مگر پاکستان کے کیبل نیٹ ورکس نے پہلے سیزن کے آغاز سے ہی اس کو دکھانے سے انکار کردیا تھا اور اس کو ملک کے ''قومی مفاد'' کے منافی قرار دیا تھا۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں متعین پریس اتاشی ندیم ہوتیانہ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''بار بار یہ بات کہنا کہ پاکستان کی ایک انٹیلی جنس ایجنسی بے گناہ شہریوں کی قیمت پر دہشت گردوں کو تحفظ دے رہی ہے،دراصل یہ مضحکہ خیز ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کی بھی توہین ہے''۔

واضح رہے کہ سنہ 2013ء میں پاکستان کے فلم تقسیم کاروں (ڈسٹری بیوٹرز) نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ''زیرو ڈارک تھرٹی'' کا بھی بائیکاٹ کردیا تھا۔یہ فلم امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے دس سال تک جاری رہنے والی سرگرمیوں سے متعلق تھی۔

امریکا کی خصوصی فورسز نے سنہ 2011ء میں پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا سراغ لگانے کے بعد چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور ا س میں انھیں ہلاک کردیا تھا۔امریکی نیوی سیلز اسامہ کی لاش بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے جس کی وجہ سے اب تک اس امریکی کارروائی کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ندیم ہوتیانہ نے ''ہوم لینڈ'' کے چوتھے سیزن کے شو پر تنقید کی ہے اور دوسرے ناقدین کی تنقید کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل کردار غلط انگریزی بول رہے ہیں یا انھوں نے غلط ملبوسات زیب تن کررکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''اس شو کے ذریعے امریکا اور پاکستان کے درمیان حساس معاملات کو اچھالنے کی تو کوشش کی ہی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اس شو کی پروڈکشن میں حقائق کا بھی خون کیا گیا ہے اور اس میں بہت سی واقعاتی اغلاط پائی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''معمولی تحقیق سے شہر اور ملک کے لوگوں،اس کے محل وقوع،زبان اور ثقافت کے بارے میں درست تصویر پیش کی جاسکتی تھی۔ایک سوال کے جواب میں ندیم ہوتیانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سرکاری طو پر ہوم لینڈ کے براڈ کاسٹر اور دوسرے ذمے داروں سے شکایت کی ہے لیکن اس کو ابھی تک اس شکایت کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔