.

بلوچستان میں ایرانی پاسدارن انقلاب کے تین اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سرحد سے متصل ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوب مشرقی علاقے سراوان میں مسلح جنگجوئوں کے ایک گروپ نے حملے کر کے پاسداران انقلاب کے تین اہلکار قتل کر دیے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’’ایرنا‘‘ کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق سراوان میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں کرنل اکبر عبداللہ نجاد، سارجنٹ قدرت اللہ ماندنی اور موسیٰ نصیری بیات نامی تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ تینوں فوجیوں کا تعلق پاسداران انقلاب کے جنوبی ایران کے ضلع فارس میں تعینات فجر بریگیڈ سے تھا۔

ایرانی بلوچستان کے صوبائی گورنر علی اصغر میرشکاری نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے دریائے نھنک کے کنارے گشت میں مصروف فوج کی ایک جیپ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین فوجی افسر مارے گئے۔ واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے تاہم ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور کارروائی کے بعد سرحد پار پاکستان میں داخل ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ سراوان کا علاقہ صوبہ سیستان بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت زاھدان کے جنوب میں پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایران نے گذشتہ مارچ میں مشرقی سرحد کے 300 کلومیٹر کے علاقے پر بلوچ عسکریت پسندوں کی سرکوبی کے لیے پاسداران انقلاب کی اضافی نفری تعینات کی تھی۔

حال ہی میں ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ سیکیورٹی کا ایک معاہدہ بھی طے پایا ہے جس میں پاکستان نے اپنی سر زمین پر ایران کو کارروائی کی اجازت دی ہے۔

ایک اور ایرانی خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق پاسداران انقلاب کی بری فوج کے ڈپٹی چیف جنرل عبداللہ عراقی نے تین فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی جس کا مقصد ایران کے مشرقی علاقوں میں شورش پھیلانا اور بدامنی کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ایران کی مشرقی سرحدوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔