.

نئے سال کا آغاز: ورکنگ باونڈری پر جارحانہ بھارتی فائرنگ

فلیگ میٹنگ کا تقدس مجروح کرنے والا بھارت پہلا ملک بن گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے ساتھ ورکنگ باونڈری پر بھارت نے نئے سال کا آغاز فائرنگ سے کیا تاہم پاکستان کی پنجاب رینجرز کی طرف سے بھرپور جواب دیے جانے پر بھارتی بی ایس ایف کی بندوقیں خاموش ہو گئیں۔ گذشتہ سال کے آخری روز بھی بھارت کی ایک جارحانہ کارروائی میں دو پاکستانی رینجرز شہید ہو گئے تھے۔

پاک فوج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس میں ملک کے اندرونی اور بیرونی سلامتی سے متعلق امور پر غور کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے لیے ہر سطح پر بھر پور اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس آرمی چیف جنرل راحیل کی زیر صدارت جمعرات کی صبح جنرل ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوئی۔

بھارت کی طرف سے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی فائرنگ اسی شکر گڑھ سیکٹر میں کی گئی ہے جہاں گذشتہ سال کے آخری روز یعنی اکتیس دسمبر کو دو طرفہ ''فلیگ میٹنگ'' کی تیاری کے لیے آنے والے دو پاکستانی رینجرز اہلکاروں کو بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے بلا اشتعال فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے اس بھارتی کارروائی کو مکارانہ جارحیت کا نام دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے بھارت سے باضابطہ احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان کے احتجاج سے آگاہ کیا گیا۔

دوسری جانب بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ اس کی رینجرز نے بھارتی گشتی ٹیم کو نشانہ بنایا جس سے ایک بھارتی اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے سے لائن آف کنٹرول کے بعد ورکنگ باونڈری پر بھی آئے روز فائرنگ اور جارحیت کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کشیدگی میں شدت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ بھارت نے کئی برسوں کے دوران پہلی مرتبہ فلیگ میٹنگ کے لیے آنے والے پاکستانی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا دیا ہے۔ تاہم ابھی یہ علم نہیں ہو سکا کہ فلیگ میٹنگ کا تقدس اس سے پہلے بھی کسی ملک نے مجروح کیا ہے یا بھارت ہی پہلا ملک ہے۔

ماہرین کے مطابق نریندر مودی کی حکومت کو متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی میں جس ناامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا غصہ بھی اہل کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان پر نکالنے کے لیے آئندہ دنوں ایسی کارروائیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

اس سے پہلے بدھ کے روز اسی شکر گڑھ سیکٹر پر بھارتی فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ سے پاکستان کے دو رینجرز اہلکاروں کو شہید کر دیا اور رات گئے سیالکوٹ کے چاروا سیکٹر پر ہلکے ہتھیاروں سے اچانک فائرنگ شروع کر دی، تاہم پاکستان کی رینجرز کی طرف سے جواب پر بھارتی سینا کی بندوقیں خاموش ہو گئیں۔

اگلی صبح بھارتی فورسز نے ایک مرتبہ پھر شکرگڑھ سیکٹر کو نشانہ بنایا لیکن جوب ملنے پر خاموشی اختیار کر لی۔ دریں اثناء پاک فوج کے اعلی ترین فورم کور کماندرز کی کانفرنس جمعرات کی صبح جنرل ہیڈ کوارٹرز میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن، ملکی اندرونی سلامتی کے علاوہ مغربی اور مشرقی سرحدوں پر سلامتی کے سوالات پر غور کیا گیا۔ واضح رہے افغانستان سے نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد پاکستان کے کور کمانڈرز کی یہ پہلی کانفرنس ہے۔