.

پاکستان، بھارت میں جوہری تنصیبات، قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور بھارت نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر اپنی جوہری تنصیبات اور اپنے ہاں ایک دوسرے کے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سنہ 1988ء میں طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔دونوں ممالک نے کسی حادثاتی جوہری تنازعے سے بچنے کے لیے ایک ٹیلی فون ہاٹ لائن بھی قائم کررکھی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حکام کو جوہری تنصیبات کی فہرست حوالے کی گئی ہے۔دونوں ممالک نے قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا ہے۔پاکستان نے اپنی جیلوں میں قید پچاس بھارتی شہریوں اور چار سو چھہتر مچھیروں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے۔

بیان کے مطابق بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی بھی ایسی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی ہے۔البتہ پاکستانی قیدیوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔دونوں ممالک قونصلر سمجھوتے کے تحت ہر سال دومرتبہ یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی جیلوں میں قید شہریوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بحیرہ عرب میں سمندری حدود کا واضح تعین نہیں ہے۔مچھیروں کی کشتیوں پر جدید آلات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر ایک دوسرے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہوجاتے ہیں۔پھر وہ سکیورٹی حکام کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔انھیں گرفتاری کے بعد جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔وہ اپنی قید کی مدت پوری ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں سرد مہری کی وجہ سے کئی کئی ماہ تک جیلوں میں قید رہتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان فہرستوں کےا س تبادلے سے صرف ایک روز قبل بھارتی بارڈر فورسز نے ضلع نارووال میں شکرگڑھ سیکٹر کی بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کرکے چناب رینجرز کے دو اہلکاروں کو شہید کردیا تھا۔اس بلا اشتعال واقعہ پر اسلام آباد میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے ان سے احتجاج کیا گیا ہے۔