.

بحیرۂ عرب میں پاکستانی کشتی دھماکے سے تباہ

بھارتی بحریہ کے تعاقب کے بعد کشتی کو دھماکے سے اڑایا گیا:وزارت دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرہ عرب میں پاکستانی مچھیروں کی ایک کشتی کو بھارتی بحریہ کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچنے کے لیے دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے اور اس میں سوار تمام چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کشتی کراچی کے نواح میں واقع کیٹی بندر سے تعلق رکھتی تھی۔نئے سال کے آغاز کے موقع پر اس کو بھارتی ریاست گجرات کے نزدیک سمندری حدود میں لے جایا گیا تھا جہاں بھارتی بحریہ نے سریع الحرکت انداز میں اس کا پیچھا کیا لیکن بھارتی اہلکاروں کے کشتی تک پہنچنے سے قبل ہی اس میں سوار افراد نے اس کو دھماکے سے اڑا دیا اور پھر اس کو سمندر ہی میں آگ لگ گئی۔

وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کشتی میں سوار افراد کچھ غیر قانونی منتقلی کی کوشش کررہے تھے اور کشتی میں دھماکا خیز مواد بھی موجود تھا۔اس نے دھماکے کے بعد کشتی کی جلتے ہوئے ایک تصویر بھی جاری کی ہے۔

بھارتی میڈیا اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے اور وہ یہ قیاس آرائیاں کررہا ہے کہ اگر یہ کشتی تباہ نہیں ہوتی تو پھر دہشت گردی کا خطرہ تھا۔بھارت کے ایک موقر اخبار ''ٹائمز آف انڈیا'' نے اس کو ''پاک ٹیرر بوٹ'' کا نام دیا ہے۔تاہم ابھی تک اس کشتی کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

بھارتی کوسٹ گارڈ کے ترجمان اجے کمار پانڈے نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا مچھیروں کی اس کشتی پر دھماکا خیز مواد موجود تھا اور اس کو کیا ممکنہ حملے کے لیے لے جایا جارہا تھا لیکن انھوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ''بھارتی کوسٹ گارڈ کے جہازوں نے انٹیلی جنس معلومات ملنے کے بعد پاکستان کے ساتھ میری ٹائم بارڈر پر روکنے کی کوشش کی تھی۔اس وقت کشتی بھارتی ریاست گجرات سے قریباً تین سو پینسٹھ کلومیٹر دور تھی''۔

تاہم کشتی نے اپنی رفتار تیز کردی اور اس نے بھارت کی سمندری حدود سے دور جانے کی کوشش کی۔اس کشتی کا کوئی ایک گھنٹے تک تعاقب کیا گیا تھا اور اس کو انتباہی فائر کے بعد روک لیا گیا تھا لیکن اس میں موجود عملے کے چارارکان نے اس کشتی کو آگ لگادی جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکا ہوا ہے۔

بیان کے مطابق ''اندھیرے ،خراب موسم اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کشتی اور اس پر سوار افراد کو بچایا یا نکالا نہیں جاسکا ہے۔کشتی یکم جنوری کو علی الصباح اسی جگہ نذرآتش ہونے کے بعد غرقاب ہوگئی ہے''۔

اس واقعہ سے نومبر 2008ء میں ممبئی میں حملوں کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔تب دس حملہ آور سمندری حدود سے ہی ایک کشتی کے ذریعے سفر کر کے ممبئی میں دراندازی میں کامیاب ہوئے تھے اور انھوں نے شہر کے مختلف مقامات میں تین دن تک خون کی ہولی کھیلی تھی۔ان کی فائرنگ اور بم دھماکوں میں ایک سو چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں نو حملہ آور مارے گئے تھے اور صرف ایک حملہ آور اجمل قصاب کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس کو بھی چند ماہ قبل بھارت میں پھانسی دی جاچکی ہے۔بھارت نے پاکستان پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن پاکستان نے اس کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔ممبئی حملوں کے مبینہ ماسٹر مائینڈ ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔گذشتہ ماہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انھیں عدم ثبوت کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان کی رہائی پر بھارت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔