.

دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق

نیشنل ایکشن پلان پر قومی اسمبلی میں بحث کی گنجائش نہیں رہی:نوازشریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک میں دہشت گردی کے ناسُور سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان (این اے پی) اور دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام سے اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعہ کو وزیراعظم میاں نواز شریف کے زیر صدارت کثیر جماعتی کانفرنس پانچ گھنٹے تک جاری رہی ہے۔اس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ،انٹر سروسز انٹیلی (آئی ایس آئی ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی شریک تھے۔کانفرنس میں دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق تمام پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔

ایم پی سی میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق مجوزہ ترمیمی بل کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس کو ہفتے کے روز پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے ہفتے کو تعطیل کو باوجود قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے کانفرنس میں اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان پر اب قومی اسمبلی میں مزید بحث کی گنجائش نہیں رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''تمام سیاسی جماعتوں نے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ یہ ثمربار ثابت ہو''۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ پندرہ روز کے دوران این اے پی پر تفصیل سے کافی بحث ہوچکی ہے،اس لیے اب اس پر پارلیمان میں بحث کی گنجائش نہیں رہی ہے۔ہمیں آج اس کو حتمی شکل دینا ہوگی اور پھر اس کو قومی اسمبلی میں بل کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے قائم کی جانے والی خصوصی فوجی عدالتیں صرف دوسال کام کریں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ ''آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایم پی سی کے دوران کہا کہ خصوصی عدالتوں کا قیام پاکستان آرمی کی خواہش نہیں ہیں بلکہ وہ غیر معمولی حالات میں درکار ہیں''۔

کانفرنس کے آغاز میں شرکاء میں ملک میں خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم کی نقول تقسیم کی گئیں۔کانفرنس میں سرکردہ وفاقی وزراء اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری ،قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ ،چودھری اعتزاز احسن ،جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ،پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ،وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی سمیت مختلف جماعتوں کے قائدین شریک تھے۔

واضح رہے کہ پشاور میں 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک کی تمام جماعتوں نے قومی یک جہتی کا اظہار کیا تھا اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل سے اتفاق کیا تھا۔قبل ازیں 24 دسمبر کو وزیراعظم میاں نوازشریف کے زیر صدارت اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر غور کیا گیا تھا۔بعض جماعتوں نے اس مجوزہ اقدام کی حمایت کی تھی اور بعض نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فوجی عدالتوں کی سب سے پہلے مخالفت کی تھی اور اب پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے قائدین بھی ان کے ہم نوا بن چکے ہیں اور وہ بھی فوجی عدالتوں کے بجائے آئین کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام پر زوردے رہے ہیں۔گذشتہ روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید نے اس بات کی تردید کی تھی کہ پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کے قیام پر غور کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے خصوصی عدالتوں کے قیام کا مسئلہ زیر بحث آیا تھا۔