.

شمالی وزیرستان:گل بہادر گروپ پر امریکی ڈرون حملہ

2015ء کے پہلے ڈرون حملے میں آٹھ مشتبہ جنگجوؤں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ایک ٹھکانے پر میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ مشتبہ جنگجو ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے اتوار کو تحصیل دتہ خیل کے علاقے الواڑہ منڈی کے نزدیک گاؤں واشا بستی میں حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک ازبک کمانڈر کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے میں جنگجوؤں کا ایک سرکردہ کمانڈر بھی مارا گیا ہے لیکن فوری طور پر اس کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔اس حملے کے بعد ڈرونز کو فضا میں پروازیں کرتے دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

وادی شوال شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع ہے۔نئے سال کے آغاز کے بعد شمالی وزیرستان میں یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ حالیہ مہینوں کے دوران قبائلی علاقوں میں امریکا کے ڈرون حملوں کی کئی بار مذمت کرچکا ہے اور وہ ان کو اپنی ملکی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

شمالی وزیرستان میں پاک آرمی جون سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے نام سے بڑی کارروائی کررہی ہے اور اس کے نتیجے طالبان جنگجوؤں کا دہشت گردی کے حملوں کے لیے ڈھانچا تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور انھیں کاری ضرب لگی ہے۔تاہم اس کے باوجود بھی وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستانی دفتر کا کہنا ہے کہ امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں کے حکومتِ پاکستان کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں،اس لیے اس صورت حال میں ان ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔