.

قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کے قیام کا بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

قومی اسمبلی میں موجود 247 ارکان نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں اکیسویں ترمیم کے بل اور پاکستان آرمی کے ترمیمی بل 2015ء کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اب اس بل کو بدھ کو ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

آئین میں اکیسویں ترمیم کے بل کی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دوتہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔قومی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 342 ہے اور سینیٹ کے ارکان کی تعداد 104 ہے۔تاہم آرمی ایکٹ میں ترمیم کے لیے حکومت کو سادہ اکثریت درکار تھی۔

قومی اسمبلی میں دو مذہبی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت العلماء اسلام (ف) کے ارکان ان ترمیمی بلوں پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے ہیں۔اس ترمیمی بل کے تحت فوجی عدالتوں کو آئینی تحفظ دیا گیا ہے اور اس کی مدت نفاذ کے بعد دو سال تک ہوگی۔

جے یوآئی اور جماعت اسلامی فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم بل کی موجودہ شکل میں منظوری کے خلاف تھیں اور جے یوآئی کے رہ نما مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم سیدھی سیدھی دینی مدارس کے خلاف ایف آئی آر ہے اور باقی اداروں کو چھوڑ کر صرف دینی مدارس کو ہدف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف کا قومی اسمبلی میں بل کو رائے شماری کے لیے پیش کرنے سے قبل کہنا تھا کہ جے یو آئی کے اس سے متعلق تحفظات دور کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے آج ایوان میں اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں رہی ہے لیکن اب ہم ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر کسی کا تعلق گرامر اسکول ،ایچی سن کالج یا کسی گورنمنٹ اسکول سے ہے تو دہشت گردوں میں کوئی تمیز نہیں کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے منافی کوئی بل ایوان میں منظور نہیں کرسکتے اور فوجی عدالتوں کے قیام کا بل تو دراصل قاضی حسین احمد مرحوم اور مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملے کرنے والوں کے خلاف ہے۔