راولپنڈی امام بارہ گاہ کے باہر دھماکا، 8 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وفاقی دارلحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ایک امام بارگاہ پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ امام بارگاہ کی عمارت سمیت متعدد قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستانی سیاستدان شیخ رشید احمد نے چینل 'نیوز ون' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکا خودکش لگتا ہے۔ چٹیاں ہٹیاں کا علاقہ شیخ رشید کی لال حویلی کے قریب ہی واقع ہے۔ علاقے کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دھماکا علاقے میں برقی رو معطل ہونے کے وقت ہوا جبکہ حملہ آور امام بارگاہ کے اندر جانا چاہتا تھا۔ جس وقت یہ حملہ کیا گیا امام بارگاہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی حوالے سے تقریب جاری تھی۔ چند عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے خود کو اس وقت دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا، جب اسے امام بارگاہ کے دروازے پر روکا گیا۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق زخمیوں کو قریبی ہسپتال لے جایا جا رہا ہے جبکہ جائے وقوعہ پر بھی زخمیوں کو ابتدائی طبّی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال (ڈی ایچ کیو) لایا گیا ہے۔ زخمیوں میں وہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جو اس وقت امام بارگاہ کی حفاظت پر معمور تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں