امریکا: ملّا فضل اللہ عالمی دہشت گرد قرار

آرمی اسکول پر حملے میں ملوّث پانچ طالبان کمانڈر افغانستان سے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے محکمہ خارجہ نے دہشت گرد تنظیم کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ ملّا فضل اللہ (المعروف ملّا ریڈیو) کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی جانب سے منگل کو واشنگٹن میں جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق ملّا فضل اللہ کو ایگزیکٹو آرڈر (ای او) 13224 کے تحت عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔امریکا کے اس اقدام کے بعد کوئی امریکی شہری فضل اللہ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مالی لین دین نہیں کرسکے گا اور ان کی امریکا میں موجود املاک اور اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے۔

ملّا فضل اللہ کو نومبر 2013ء میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ان کی قیادت میں ٹی ٹی پی نے 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردی کے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں ایک سو اڑتالیس افراد شہید ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر اسکول کے طلبہ تھے۔

واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ٹی ٹی پی کو یکم ستمبر 2010ء کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم اور خصوصی عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 29 جولائی 2011ء سے ٹی ٹی پی کا نام القاعدہ پر پابندیوں کی ذمے دار کمیٹی میں شامل کررکھا ہے۔

درایں اثناء افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں ملوث پانچ مشتبہ طالبان کمانڈروں کو گرفتار کرلیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ان ملزمان کی افغانستان سے گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ان پانچوں ملزمان کا تعلق پاکستان سے ہی ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر بتائے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملزمان آرمی پبلک اسکول پرحملے کے منصوبہ ساز اور رابطہ کار تھے،گرفتاردہشت گردوں سے متعلق پاکستانی حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

پاکستان کے طاقتور سراغرساں ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے حال ہی میں افغانستان کا دورہ کیا تھا اور افغان حکام ٹی ٹی پی کے کمانڈروں کے پشاور حملے میں ملوّث ہونے سے متعلق اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کی تھی اور ان کی روشنی ہی میں ان کو پکڑا گیا ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد غیرمعمولی حالات کے پیش نظر اساتذہ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

خیبر پختونخوا میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی آٹی آئی) اور اس کی اتحادی جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت ہے۔اس نے امن وامان سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور صوبے میں سکیورٹی کے لیے نئے انتظامات کیے ہیں۔

اس صوبے میں بھی تعلیمی ادارے ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح سوموار کوموسم سرما کی تعطیلات کے بعد دوبارہ کھلے ہیں۔البتہ ان شہروں اور دیہی علاقوں میں سیکڑوں اسکول اور کالجز نہیں کھولے گئے ہیں جہاں حفاظتی انتظامات موثر نہیں تھے۔

صوبائی حکومت کی ہدایت پر تعلیمی اداروں کی بیرونی دیواریں اونچی کی جارہی ہیں، خار دار تار لگائے جارہے ہیں۔واک تھرو گیٹ اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جارہے ہیں اور مسلح محافظوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اب پی ٹی آئی کی حکومت نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اساتذہ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے کا مقصد دہشت گردوں کے کسی حملے کی صورت میں سیکیورٹی فورسز کے پہنچنے تک حملہ آوروں کو روکنا ہے۔

اس اعلان سے قبل وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے تسلیم کیا ہے کہ صوبے میں تیس ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ تعلیمی داروں کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں