.

قومی اسمبلی:چارلی ہیبڈوکے خلاف مذمتی قرار داد منظور

او آئی سی اور یورپی یونین سے توہینِ انبیاء روکنے کے لیے اقدام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے فرانسیسی طنزیہ ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو میں ایک مرتبہ پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے جبکہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایک بیان میں فرانسیسی میگزین کی مذمت کی ہے۔

سعودی دارالحکومت الریاض میں پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''آزادی اظہار کو کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے''۔

قومی اسمبلی میں جمعرات کو وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے چارلی ہیبڈو کی مذمت میں قرارداد پیش کی اور اس کو پڑھ کر سنایا۔اس قرارداد میں اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس طرح کے مواد کی اشاعت کے خلاف کارروائی کریں۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ''یہ توہین آمیز کارٹونز تہذیبوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی ایک سازش ہیں۔چارلی ہیبڈو میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اظہار رائے کی آزادی کے منافی ہے اور دین کا مضحکہ اڑانے کے لیے شائع کیا جانے والا مواد قابل مذمت ہے''۔قومی اسمبلی میں موجود ارکان نے اس قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے۔

وزیرمذہبی امور سردار محمد یوسف نے پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان کے ارکان اور عوام اس طرح کے اقدامات کے خلاف ہیں اور ان کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے فرانسیسی جریدے کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اس طرح کے عناصر کو اسلام کا تشخص مجروح کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ مذہبی حقوق کی بات کی ہے مگر اس طرح کے عناصر مسلم اُمہ کے خلاف سازشیں کررہے ہیں''۔

بعد میں پارلیمان کے ارکان نے خواجہ سعد رفیق کی قیادت میں شاہراہ دستور پر مارچ بھی کیا اور انھوں نے خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس پر مرمٹنے کے لیے نعرے لگائے۔فرانسیسی میگزین کے خلاف اس مظاہرے میں خواتین سمیت بیسیوں ارکان پارلیمان شریک تھے۔

ادھر پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں بھی شہری اور مذہبی تنظیموں نے فرانسیسی میگزین کی آزادی اظہار کے نام پر ناپاک جسارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور انھوں نے امریکی قونصل خانے تک مارچ کیا ہے۔

تحریک صراطِ مستقیم کے زیراہتمام مظاہرے کے شرکاء نے پہلے مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اور ا س کے بعد امریکی قونصل خانے تک مارچ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر حملے کے بعد اس میں توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

چارلی ہیبڈو کے دفتر پر بدھ سات جنوری کو دو مسلح بھائیوں کے حملے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں پانچ کارٹونسٹ شامل تھے۔اس کے باوجود چارلی ہیبڈو کے نئے شمارے کے سرورق پر ایک ایسا کارٹون شائع کیا گیا ہے جس کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔اس نے ''میں چارلی ہوں'' کی تحریر والا کاغذ پکڑا ہوا ہے۔اس کارٹون کو بنانے والے نے کہا ہے کہ یہ ہمارے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تشدد کے خلاف ہیں۔اس طرح اس نے انتہائی ناپاک جسارت کی ہے۔

واضح رہے کہ اس فرانسیسی ہفت روزہ اخبار نے 2006ء ،2011ء اور 2013ء میں بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی خاکے اور کارٹون شائع کیے تھے جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔یہ طنزیہ اخبار ماضی میں متعدد مواقع پر آزادی اظہار کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب ہوچکا ہے۔اس کے دفاتر پر سنہ 2011ء میں ایسی ہی ناپاک جسارت کے بعد فائربم حملہ کیا گیا تھا۔اخبار کی اشاعتوں میں اکثر مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑایا جاتارہا ہے لیکن مغربی لیڈر پریس اور تقریر کی آزادی کے نام پر اس کا دفاع کرتے رہے ہیں۔