.

پاکستان میں اکٹھے تین طلاقیں قابل سزا جُرم!

اسلامی نظریاتی کونسل کی تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی کے لیے سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں نافذ قوانین کو اسلامی شریعت کے مطابق ڈھالنے کے ذمے دار آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک وقت میں اکٹھے تین طلاقوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اس فعل کو قابل سزا جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلام آباد میں چئیرمین مولانا محمد خان شیرانی کے زیر صدارت اپنے دوروزہ اجلاس میں متعدد سفارشات کی منظوری دی ہے۔اجلاس میں کونسل کے گیارہ ارکان ،مذہبی ماہرین ،علماء اور محققین نے شرکت کی ہے اور انھوں نے زیر بحث آنے والے موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی نے بدھ کو نیوزکانفرنس میں کونسل کی جانب سے کہا ہے کہ بیک وقت اکٹھی تین طلاقیں غیراسلامی اور شریعت کے منافی ہیں اور ایک خاوند کی جانب سے بیک وقت بیوی کو تین طلاقوں کو قابل سزا جرم سمجھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''شریعت میں طے شدہ طریق کار کے مطابق ایک خاوند اپنی بیوی کو ایک وقت میں ایک ہی طلاق دے سکتا ہے''۔واضح رہے کہ پاکستان میں نافذ اسلامی عائلی قوانین کے مطابق ایک شخص کو اپنی بیوی سے علاحدگی کے لیے تین مرتبہ طلاق دینا پڑتی ہے اور تب ہی یہ طلاق قانونی طور پر مؤثر ہوتی ہے۔

طلاق کے موجودہ قانون کے تحت ایک مرد اپنی بیوی کو یونین کونسل یا عدالت کے ذریعے طلاق کے تین الگ الگ نوٹس بھجواتا ہے اور اس کے بعد دونوں کے درمیان علاحدگی ہوجاتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے وضاحت کی ہے کہ ایک طلاق کے بعد خاوند کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ،دوسری طلاق کے بعد وہ دونوں میاں بیوی دوبارہ نکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں لیکن تیسری طلاق کے بعد وہ کسی صورت اکٹھے نہیں رہ سکتے ہیں۔اس صورت میں اب وہ عورت اپنے اس سابقہ خاوند سے براہ راست نکاح نہیں کرسکتی ہے۔پہلے اس کا کسی مرد سے نکاح ہوگا۔وہ اگر اس کو طلاق دے دیتا ہے تو پھر وہ اپنے خاوند کے عقد میں آسکے گی۔شریعت میں اس عمل کو حلالہ کہتے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی اس سفارش پر تبصرہ کرتے ہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ ''ایک وقت میں تین طلاقوں کو جرم قرار دینا مناسب نہیں ہے۔اس امر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناپسندیدہ ضرور قرار دیا ہے لیکن اس کو جرم قرار نہیں دیا تھا''۔

مولانا شیرانی نے تین طلاقیں دینے والے خاوند کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے قید یا جرمانے کی صورت میں کوئی سزا تجویز نہیں کی ہے بلکہ اس کو متعلقہ عدالتوں پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ جو چاہیں سزا دے سکتی ہیں۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین ججوں کے لیے یہ سفارش کی ہے کہ وہ حجاب اوڑھیں اور انھیں اسلامی شریعت کے مطابق نقاب کرنا چاہیے۔

نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس میں کم عمر بچوں کو سنائیں سنانے سے متعلق بل کو مسترد کردیا ہے اور اس کو غیر اسلامی اور نامناسب قرار دیا ہے۔اس نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں ایک نیا بل تیار کرکے پیش کرے۔

کونسل نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ 14 اگست کو اس کی قومی اہمیت کے پیش نظر ایک سرکاری دن کے طور پر منایا جائے۔نیز پاکستان میں کسی بھی ناگہانی واقعے کی صورت میں ''ایام سیاہ'' یا یوم سوگ نہیں منائے جانے چاہیئں۔

کونسل نے ملک میں فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرے۔کونسل کے ارکان نے اس دوروزہ اجلاس میں پاکستانی عوام میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا ہے۔