''بھارت،امریکا جوہری ڈیل، جنوبی ایشیا پر منفی اثرات ہوں گے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان نے بھارت اور امریکا کے درمیان جوہری ٹیکنالوجی میں تعاون سے متعلق سمجھوتے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے جوہری سدِّ جارحیت اور جنوبی ایشیا میں استحکام کی مجموعی صورت حال پر ضرررساں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستانی وزیراعظم میاں نوازشریف کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے امریکی صدر براک اوباما کے حالیہ دورۂ بھارت کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون کو فروغ دینے کے لیے سمجھوتے پر اپنے باضابطہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا:''پاکستان یہ توقع کرتا ہے کہ امریکا جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اور توازن کے لیے ایک تعمیری کردار ادا کرے گا''۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی سے متعلق مفادات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت نیوکلئیر سپلائرز گروپ (این سی جی) اور دوسرے نیوکلئیر کنٹرول رجیمز میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔سرتاج عزیز نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''پاکستان کسی اور ملک کو این ایس جی کے قواعد وضوابط سے استثنیٰ دینے اور بھارت کو اس کی رُکنیت دینے کا مخالف ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس اقدام سے جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام کی ناقص صورت حال مزید پیچیدگی کا شکار ہوجائے گی اور اس سے این ایس جی کی اپنی اعتباریت پر مزید حرف آئے گا جبکہ اس سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا رجیم مزید کمزور ہوگا''۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس لعنت کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان خود اسپانسر اور غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا شکار ہے لیکن وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے عزم سے متعلق کسی بھی قسم کی منفی رائے کو مسترد کرتا ہے اور وہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے۔

پاکستانی مشیر امور خارجہ نے بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوئی خصوصی درجہ دینے کی بھی شدید مخالفت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ بھارت تو خود سلامتی کونسل کی جموں وکشمیر کے تنازعے سے متعلق قراردادوں کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے گذشتہ قریباً سات عشروں سے جاری اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔اس لیے بھارت کسی بھی لحاظ سے سلامتی کونسل میں خصوصی درجہ پانے کا حق دار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ اتوار کو مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان سویلین جوہری توانائی میں تعاون سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

دونوں ممالک نے سنہ 2008ء میں دوطرفہ جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت امریکا نے بھارت کو سویلین جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی دینے سے اتفاق کیا تھا لیکن اس پر اب تک کسی جوہری حادثے کی صورت میں معاوضے کی ادائی کے ضمن میں بھارت کے سخت قوانین کی وجہ سے عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

دونوں لیڈروں کے درمیان طے پائے نئے سمجھوتے کی تفصیل ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے کہ انھوں نے گذشتہ چھے سال سے جاری تعطل کو کیسے دور کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے ایک انشورنس پول کے قیام کی پیش کش کی ہے۔اس سے بھارت میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے والی کمپنیوں کو کسی جوہری حادثے کی صورت میں معاوضہ ادا کیا جاسکے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ''ہم نے سول نیوکلئیر تعاون سے متعلق تعطل کو دور کرنے کے لیے دو ایشوز پر اہم پیش رفت کی ہے۔ہم اس معاہدے پر مکمل درآمد کے لیے پُرعزم ہیں۔یہ پیش رفت ہمارے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں