.

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور عہدے سے مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا استعفیٰ صدر پاکستان نے منظور کر لیا ہے۔ ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق گورنر پنجاب نے اپنا استعفیٰ بدھ کی رات صدر مملکت ممنون حسین کو بھجوایا تھا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے چودھری محمد سرور کے حکومتی پالیسی کے منافی مخالف بیانات پر اظہارِ ناپسندیدگی کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی تھی۔انھوں نےمستعفی ہونے کے بعد کہا ہے کہ وہ گورنر کے عہدے کے بغیر بھی عوام کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے جن مقاصد کے حصول کے لیے گورنر کا عہدہ قبول کیا تھا،وہ پورے نہیں ہوسکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری محمد سرور نے لارڈ نذیراحمد اور دیگر دوستوں سے مشاورت کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اس حوالے سے پریس کانفرنس کر کے آگاہ کریں گے۔ وہ 2 اگست 2013ء کو اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔

گذشتہ سال کے آخر میں ایک نجی ٹی وی چینیل کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران حکومتی کارکردگی پر گورنر کی جانب سے کیے جانے والےاعتراضات پر یہ افواہیں پھیلنا شروع ہو گئی تھیں کہ وہ شریف برادران سے اختلافات کے باعث اپنے عہدے سے الگ ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ چودھری سرور اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو سے لیبر پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے 1997ء سے 2010ء تک برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام کے رکن رہے تھے۔ وہ برطانوی پارلیمان کے پہلے مسلمان اور ایشیائی منتخب رکن تھے۔اگست 2013ء میں گورنر کا عہدہ سنبھالتے وقت انھوں نے برطانوی شہریت ترک کر دی تھی۔