.

ٹی ٹی پی کمانڈرعمرخراسانی افغانستان میں شدید زخمی

صوبہ ننگرہار میں افغان فورسز کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) مہمند ایجنسی کا سربراہ اور ٹی ٹی پی جماعت الاحرار کا سرپرست عمر خالد خراسانی افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں شدید زخمی ہوگیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان اور خراسانی کے قریبی ساتھی احسان اللہ احسان نے افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں اس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر خراسانی آج اتوار کو زخمی ہوا ہے لیکن احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ وہ دو ہفتے قبل زخمی ہوا تھا اور اب تیزی سے صحت یاب ہورہا ہے۔

عمر خالد خراسانی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بانی ارکان میں سے ہے اور وہ ماضی میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پیشہ صحافت سے منسلک رہ چکا ہے۔وہ اس دہشت گرد گروپ کے حلقوں میں ایک نڈر فوجی کمانڈر کی شہرت رکھتا ہے۔

ٹی ٹی پی کی قیادت نے اس کو مختصر وقت کے لیے خیبر ایجنسی کی قیادت کی اضافی ذمے داری بھی سونپی تھی اور اس نے اس دوران حکومت کے حمایت یافتہ لشکروں کے خلاف ایک خونریز مہم برپا کی تھی۔تاہم اس کو بعد میں جماعت الاحرار کے نام سے اپنا ایک الگ دھڑا بنانے پر ٹی ٹی پی سے نکال دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت کالعدم تحریک طالبان پاکستان دو بڑے دھڑوں میں بٹ چکی ہے۔ایک کی قیادت سخت گیر ملّا فضل اللہ کررہے ہیں۔وہ ملّا ریڈیو کے نام سے بھی معروف ہیں اور ان کے بارے میں متعدد مرتبہ یہ رپورٹس آچکی ہیں کہ وہ افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ میں کہیں روپوش ہیں۔انھیں طالبان کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اس دہشت گرد گروپ کی قیادت سونپی گئی تھی۔

ٹی ٹی پی کا دوسرا دھڑا عمر خراسانی کی قیادت میں قائم ہے۔ان کی قیادت میں جماعت الاحرار کے نام سے ایک اور دہشت گرد گروپ بھی برسرپیکار ہے۔قبل ازیں وہ احرارالہند کے نام سے ایک اور دہشت گرد گروپ کی قیادت کرتے رہے تھے۔

اس گروپ نے طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان 2014ء کے اوائل میں جنگ بندی کے دوران دہشت گردی کے متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع کچہری میں حملہ بھی شامل تھا جس میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمر خراسانی کے القاعدہ اور اس کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ساتھ مضبوط روابط استوار ہیں۔

درایں اثناء افغان صوبہ ننگر ہار میں نازیان کے علاقے اچھینا میں ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں تین جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔