.

چودھری محمد سرور پی ٹی آئی میں شامل

عمران خان کا سابق گورنر پنجاب کی جماعت میں شمولیت کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے سابق گورنر چودھری محمد سرور عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) میں شامل ہوگئے ہیں۔

انھوں نے منگل کو لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے اس موقع پر کہا کہ ''میں نے اپنے چالیس سالہ سیاسی تجربے کے دوران یہ دیکھا ہے کہ متحد جماعتیں انتخابات جیت جاتی ہیں اور منتشر جماعتیں ناکام رہتی ہیں۔پی ٹی آئی میں اتحاد کی وجہ سے ایک صلاحیت ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں تعلیم عام ہو اور عام لوگ بھی انصاف حاصل کرسکیں''۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا مقصد وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے''۔

عمران خان نے چودھری محمد سرور کو پی ٹی آئی میں شمولیت پر مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ ''وہ عام سیاست دان نہیں ہیں۔انھوں نے برطانیہ میں لیبر پارٹی کے لیے بہت کام کیا ہے۔انھوں نے اپنے تجربے کے پیش نظر پی ٹی آئی کو مضبوط بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا''۔

قبل ازیں گذشتہ اتوار کو چودھری سرور نے پی ٹی آئی کے چئیرمین سے اسلام آباد کے علاقے بنی گالا میں واقع ان کی قیام گاہ پرملاقات کی تھی۔عمران خان نے انھیں پی ٹی آئی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی تھی۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر چودھری سرور نے جماعت میں شمولیت کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ انھیں اس کا صدر بنایا جائے۔

پی ٹی آئی کے صدر کا عہدہ مخدوم جاوید ہاشمی کے گذشتہ سال اکتوبر میں جماعت کو چھوڑ جانے کے بعد سے خالی ہے۔جاوید ہاشمی نے عمران خان کی اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کے دوران وزیراعظم ہاؤس کی جانب چڑھائی کی مخالفت کی تھی۔ وہ بعد میں قومی اسمبلی کی رکنیت اور پی ٹی آئی کی صدارت سے مستعفی ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق بنی گالہ میں ملاقات کے بعد عمران خان نے جماعت کے عہدے داروں سے چودھری سرور کے مطالبے پر مشاورت کی تھی اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ انھیں پارٹی کا صدر بنا دیا جائے گا۔

بعض دوسرے ذرائع کے مطابق سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی چودھری سرور سے گورنر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد رابطہ کیا تھا اور انھیں پارٹی کی پنجاب شاخ کی صدارت کی پیش کش کی تھی۔

واضح رہے کہ چودھری سرور نے امریکی صدر براک اوباما کے گذشتہ ماہ صرف بھارت کے دورے اور پاکستان نہ آنے کو نوازشریف حکومت کی سفارتی ناکامی قرار دیا تھا اور اس کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی تھی۔ان کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے بھی صوبے کے انتظامی معاملات پر اختلافات بتائے جاتے تھے جس کے بعد انھوں نے 29 جنوری کو گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔انھوں نے مستعفی ہونے کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ''میں پاکستان کی کسی عہدے کے بغیر بھی بہتر خدمت کرسکتا ہوں اور اب میراجینا اور مرنا پاکستان ہی میں ہو گا''۔