.

کرکٹ ورلڈ کپ:بھارت کی 76 رنز سے جیت

پاکستانی ٹیم 300 رنز کے جواب میں 224 رنز بنا کر آؤٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت نے پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈ کپ ٹورنا منٹ کے پہلے میچ میں چھہتر رنز سے شکست دے دی ہے۔بھارت نے پاکستان کو جیت کے لیے تین سو ایک رنز کا ہدف دیا تھا لیکن اس کی پوری ٹیم سینتالیسویں اوور میں دو سو چوبیس رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

آسٹریلیا کے شہر ایڈی لیڈ اوول میں دونوں روایتی ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور ان کی ٹیم نے مقررہ پچاس اوورز میں سات وکٹ کے نقصان پر پورے تین سو رنز بنائے تھے۔

بھارت کی جانب سے ویرات کوہلی نے سب سے زیادہ 107 رنز بنائے تھے۔ یہ ایک روزہ میچوں میں ان کی بائیسویں سنچری تھی۔پاکستان کے خلاف عالمی کپ کے میچ میں یہ کسی بھارتی کھلاڑی کی جانب سے پہلی سینچری ہے۔انھیں دونوں ٹیموں کے درمیان اس اہم اور بڑے میچ کا بہترین کھلاڑی قراردیا گیا ہے۔

بھارت کی جانب سے چوتھے نمبر پر کھیلنے کے لیے آنے والے ایس کے رائنا 74 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔دوسرے نمایاں بلے باز اوپنر شیکھر دھاوان تھے۔انھوں نے 73 رنز بنائے تھے۔ کپتان ایم ایس دھونی 18 رنز بنا کر سہیل خان کی گیند پر مصباح الحق کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے تھے۔

بھارت کے اوپنر روہیت شرما 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے لیکن اس کے بعد دوسرے بلے بازوں نے پاکستانی باؤلروں کا اعتماد کے ساتھ سامنا کیا اور انھوں نے پینتالیس اوورز میں 270 رنز بنا لیے تھے۔اس مرحلے پر یہ نظر آرہا تھا کہ وہ 320 تک مجموعی اسکور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن آخری پانچ اوورز میں پاکستانی باؤلروں نے نپی تلی باؤلنگ کی اور انھوں نے 27 رنز کے عوض پانچ بھارتی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ سہیل خان سب سے کامیاب باؤلر رہے ہیں۔انھوں نے پانچ بھارتی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔

بھارت کے تین سو رنز کے تعاقب میں پاکستان نے تجربے کار بے باز یونس خان کو احمد شہزاد کے ساتھ اننگز کے آغاز کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک مرتبہ پھر کوئی نمایاں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں اور صرف چھے رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔اس طرح ابتدا ہی میں پاکستانی بلے باز دباؤ میں آگئے اور ان کی رنز بنانے کی رفتار سست روی کا شکار ہوگئی۔

کپتان مصباح الحق نے پاکستانی کی جانب سے سب سے زیادہ 76 رنز بنائے ہیں۔احمد شہزاد 47 اور حارث سہیل 36 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔دو بلے باز صہیب مقصود اور عمر اکمل کوئی رن بنائے بغیر ہی پویلین کو لوٹ گئے۔شاہد آفریدی جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے اور انھوں نے 22 رنز بنائے۔بھارت کی جانب سے فاسٹ باؤلرمحمد شامی نے چار پاکستانی بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔

میچ کے بعد انعامات تقسیم کرنے کی تقریب میں مصباح الحق نے کہا کہ بھارت نے تین سو رنز بنا کر ایک بڑا ہدف دیا تھا لیکن ہمارے مڈل آرڈر بلے بازوں کے جلد آؤٹ ہونے سے ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی اور اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن یہ کوئی آخری میچ نہیں ہے،ہم اب اپنے آیندہ میچ پر نظریں مرکوز کیے ہیں۔انھوں نے بھارت کی باؤلنگ کی بھی تعریف کی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں عالمی کپ ٹورنا منٹوں میں پانچ مرتبہ پاکستان اور بھارت کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوچکا ہے۔ان پانچوں میچوں میں بھارتی ٹیم ہی فاتح رہی تھی اور پاکستانی ٹیم کرکٹ کے اس سب سے بڑے ٹورنا منٹ میں ایک مرتبہ پھر بھارت سے اپنی شکست کا داغ دھونے میں ناکام رہی ہے اور اس نے ہار کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس میچ سے قبل سرحد کے دونوں جانب بڑی غوغا آرائی تھی اور دونوں ممالک کے ماہرین اور شہری اپنی اپنی ٹیم کو فیورٹ قرار دے رہے تھے اور وہ مخالف ٹیم کو شکست سے دوچار کرنے کے عزم کا اظہار کررہے تھے لیکن میدان میں میچ کا فیصلہ ایک مرتبہ پھر بھارت کے حق میں ہوا ہے۔ایڈی لیڈ اوول کے نوتعمیرشدہ اسٹیڈیم میں قریباً ساٹھ ہزار شائقین نے یہ میچ دیکھا ہے۔ان میں بھارتی اور پاکستانی شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

بھارتی ٹیم کی جیت کے بعد بھارتیوں کا جوش وجذبہ دیدنی تھا لیکن پاکستانیوں کے مُنھ لٹکے ہوئے تھے اور وہ اپنے کھلاڑیوں کو جلی کٹی سنا رہے تھے۔مبصرین نے یونس خان سے اوپن کرانے کے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے اور انھوں نے وکٹ کیپر بلے باز عمر اکمل پر بھی تنقید کی ہے جنھوں نے ویرات کوہلی کا ایک کیچ چھوڑ دیا تھا۔اس وقت وہ 76 کے انفرادی اسکور پر کھیل رہے تھے۔