.

لاہور:پولیس لائنز کے باہر بم دھماکا ،8 افراد ہلاک

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں پولیس کے ہیڈ کوارٹرز پر بم حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔کالعدم جنگجو گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے جاننے والے صحافیوں کو فون کرکے بتایا ہے کہ دھماکا ان کے گروپ نے کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق منگل کی دوپہر لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ میں واقع پولیس لائنز کے مرکزی دروازے کے نزدیک بم دھماکا ہوا ہے۔بارود ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا اور اس کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دھماکا ایک خود کش بمبار نے کیا ہے۔

پولیس لائنز کے باہر بم دھماکے کے بعد وہاں کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی ۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے نزدیک واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔لاہور شہر کے اس گنجان آباد علاقے میں دھویں کے بادل دور دور سے نظر آرہے تھے۔سکیورٹی اہلکاروں نے واقعے کے فوری بعد علاقے کا محاصرہ کر لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔ دھماکے کی جگہ پاکستان ریلویز کے ہیڈ کوارٹرز کے بالمقابل واقع ہے۔

پولیس حکام کے مطابق بم دھماکے میں مرنے والوں میں ایک اسسٹینٹ سب انسپکٹر(اے ایس آئی) پولیس بھی شامل ہے۔انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملے کا ہدف پولیس لائنز تھی،لیکن حملہ آور کی داخلی دروازے سے باہر تلاشی لی گئی اور اس نے وہیں اپنی گاڑی کو قبل از وقت ہی دھماکے سے اڑا دیا۔

انھوں نے کہا کہ ''شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آغاز کے بعد سے پاک آرمی مختلف علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور یہ حملہ اس کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔ہم حملہ آور کے بارے میں مزید جاننے کے لیے سی سی ٹی وی کی فوٹیج کا جائزہ لیں گے''۔ آئی جی پولیس کے مطابق دھماکے میں پانچ سے آٹھ کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔

قبل ازیں پنجاب حکومت کے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے بم دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت اور تئیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔انھوں نے بتایا کہ چھے زخمیوں کو میو اسپتال ،تیرہ کو گنگا رام اسپتال اور چار کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔دھماکے کے بعد لاہور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دھماکا خودکش حملے کے نتیجے میں ہوا ہے۔ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ بم میں بال بیرنگ بھی استعمال کیے گئے تھے۔بعض عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی ہیں۔تاہم سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے فائرنگ کی تھی۔

وزیراعظم میاں نواز شریف ،صدر ممنون حسین ،پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور دوسرے سیاسی رہ نماؤں نے لاہور میں دہشت گردی کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے اور انھوں نے دہشت گردی کے اس واقعے کی ابتدائی رپورٹ طلب کر لی ہے۔