.

پاکستان اور ترکی میں 11 سمجھوتوں پر دستخط

دونوں ملکوں کے درمیان مثالی تعلقات استوار ہیں:میاں نواز شریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور ترکی نے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے دورۂ اسلام آباد کے موقع پر مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے گیارہ سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

ان میں ایک سمجھوتا،پانچ پروٹو کول ،مفاہمت کی تین یادداشتیں،ایک اضافی پروٹوکول اور دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترکہ اعلامیہ شامل ہے۔

دونوں ملکوں نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بھی اتفاق کیا ہے۔یہ اتفاق رائے ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو اور پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''دونوں لیڈروں نے علاقائی اور دوطرفہ سلامتی اور دفاع کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے''۔ ترک وزیراعظم نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کو سراہا۔

احمد داؤد اوغلو نے اسلام آباد میں پاکستان اور ترکی کی اعلیٰ سطح کی مشترکہ تزویراتی کونسل کے چوتھے اجلاس کی وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ صدارت کی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی اہم شراکت دار ہیں اور وہ اپنے عوام اور خطے کے امن اور خوش حالی کے لیے کام کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات مثالی حیثیت کے حامل ہیں اور دونوں ملکوں کے قائدین کی نسلوں نے ان تعلقات کو مزید پروان چڑھایا ہے۔انھوں نے ترک قیادت اور عوام کی جانب سے سانحہ پشاور کے فوری بعد مضبوط حمایت کو سراہا۔

اس موقع پر احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی منزل ایک ہے اور دنیا کے کوئی سے دو اور ممالک کے درمیان اس طرح کے مثالی تعلقات استوار نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ترک اور پاکستانی لیڈر ایک دوسرے کے ملک کے دورے کرتے رہتے تھے لیکن اب ان دوروں کو منظم کردیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان معیشت ،تجارت ،توانائی ،مواصلات ،تعلیم ،ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں اور ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔اس سے پہلے دونوں وزرائے اعظم نے ون آن ون ملاقات کی اور اس کے بعد وفود کی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔

احمد داؤد اوغلو منگل کی صبح پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔گذشتہ سال اگست میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ان کے وفد میں ان کی کابینہ کے متعدد وزراء، اعلیٰ حکام اور ترکی کی سرکردہ کاروباری شخصیات شامل ہیں۔