.

یومِ پاکستان پریڈ پردہشت گردی کا منصوبہ ناکام

اسلام آباد سے دو مشتبہ دہشت گرد ہتھیاروں سمیت گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے 23 مارچ کو یومِ پاکستان کی پریڈ کے موقع پر دہشت گردی کے حملے کی ایک سازش ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ذراِئع نے اتوار کو بتایا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے علاقے غوری ٹاؤن سے حال ہی میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور انھوں نے دوران تفتیش دہشت گردی کے حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔

ان ذرائع نے بتایا ہے کہ ان دونوں مشتبہ افراد کو راول پنڈی کے علاقے شکریال میں واقع قصر سکینہ امام بارگاہ میں 19 فروری کو بم حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں گولہ بارود اور ہتھیار بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے سات سال کے وقفے کے بعد اسلام آباد میں 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر مشترکہ پریڈ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس میں تینوں مسلح افواج کے دستے حصہ لیں گے اور پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے فضا میں اپنے کا مظاہرہ کریں گے۔

16 دسمبر 2014ء کو شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے تناظر میں یہ پریڈ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کا ایک بڑا مقصد پاکستانی قوم اور مسلح افواج کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد اور یکسوئی کا اظہار ہے۔توقع ہے کہ اس موقع پر چین کے صدر ژی جین پنگ مہمان خصوصی ہوں گے۔اس سے قبل 23 مارچ 2008ء کو ریٹائرڈ جنرل صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں یوم پاکستان کے موقع پر پریڈ منعقد کی گئی تھی۔

یادرہے کہ راول پنڈی میں 18 فروری کو اہل تشیع کی امام بارگاہ قصر سکینہ کے مرکزی دروازے پر خود کش بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے دھڑے جنداللہ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور اس گروپ کے ترجمان فجاد نے اپنے جاننے والے صحافیوں کو فون کرکے بتایا تھا کہ یہ دھماکا شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔