.

میاں نوازشریف کا شاہ سلمان سے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعودی دارالحکومت الریاض میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات بڑھانے اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ملاقات میں سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز ،وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل ،گورنر الریاض شہزادہ فیصل بن بندر ،وزیرداخلہ اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نايف بن عبدالعزيز ،وزیردفاع اور شاہی دیوان کے مشیر شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزيز اور وزیر ثقافت واطلاعات ڈاکٹرعادل بن زيد الطريفی اور دوسرے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بات چیت کی گئی ہے۔

اس سے پہلے بدھ کی دوپہر وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اپنے وفد کے ہمراہ الریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے تو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بہ نفس نفیس ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر ولی عہد شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز،نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف اور دوسرے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔

پاکستانی وزیراعظم کو شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کے تین روزے کی دعوت دی تھی۔وہ اس دوران مکہ مکرمہ میں عمرہ بھی ادا کریں گے اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے جائیں گے۔شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد شاہ سلمان کے سعودی فرمانروا بننے کے بعد میاں نوازشریف کا سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ ہے۔وہ سعودی مملکت میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ان کے ہمراہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد سعودی عرب گیا ہے۔اس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،قومی امور سے متعلق وزیراعظم کے خصوصی معاون عرفان صدیقی اور وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی شامل ہیں۔

اسلام آباد سے سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب برادر اسلامی ملک ہِیں اور وہ مشترکہ عقیدے اور اقدار سے جڑے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان ایسے وقت میں سعودی عرب کا دورہ کررہے ہیں جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑرہا ہے۔اس تناظر میں پاکستانی میڈیا کے ایک حصے نے پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کی تھی اور سعودی عرب پر پاکستان میں انتہا پسندی کے فروغ کے لیے مالی امداد دینے کے بے بنیاد الزامات عاید کیے تھے۔

اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے نے ایک بیان میں ان من گھڑت رپورٹس کی تردید کی تھی کہ سعودی عرب کی جانب سے کسی ادارے یا شخصیت کو انفرادی حیثیت میں امداد دی جارہی ہے۔اس بیان میں واضح کیا گیا تھاکہ سعودی عرب کی جانب سے فلاح وبہبود کے منصوبوں کے لیے امداد دفتر خارجہ کے ساتھ رابطے کے ذریعے دی جاتی ہے لیکن ایک خاص فرقے سے تعلق رکھنے والے بعض پاکستانی صحافیوں نے اپنی رپورٹس ،تجزیوں اور تبصروں میں اس بیان سے من مانے مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شاندار دوستانہ تعلقات میں رخنہ ڈالنے کے لیے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان کا الریاض آمد پر شاندار استقبال کیا گیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کا الریاض آمد پر شاندار استقبال کیا گیا ہے۔