.

پنجاب میں بچّہ شادی پر سخت سزا کا قانون منظور

بچّے کی کم عمری کی شادی پر والدین کو 3 ماہ قید ،50ہزار روپے جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی اسمبلی نے کم عمری کی شادی پر پابندی اور اس کے ذمے داروں کی سزاؤں میں اضافے کے لیے ترمیمی قانون کی منظوری دے دی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں جمعہ کو منظور کیے گئے بل کے تحت بچہ شادی ایکٹ مجریہ 1929ء میں ترمیم کی گئی ہے۔نئے قانون کے تحت اپنے بچوں کی کم عمری میں شادی کرنے والے والدین اور ان کے نکاح پڑھانے والے نکاح خواں قاضی حضرات اور علماء کی سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ترمیمی قانون کے تحت اپنے بچوں کی کم عمری میں شادی کرنے والے والدین کو چھے ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی اور ان کے علاوہ ان بچوں کا نکاح پڑھانے والے مولوی حضرات کو بھی اب قید اور جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قبل ازیں مروجہ قانون کے تحت والدین کو ایک ماہ قید اور صرف ایک ہزار روپے جرمانہ عاید کیا جاتا تھا اور نکاح خواں حضرات کے لیے کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔پنجاب اسمبلی نے اس سے پہلے اس ترمیمی بل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی تھی اور پھر اس کی منظوری دی ہے۔

اس سے پہلے صوبہ سندھ کی اسمبلی 2013ء میں بچوں کی شادی کی حد عمر کا قانون منظور کر چکی ہے۔واضح رہے کہ عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس شائق قاضی نے دسمبر میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بچوں کی شادی سے متعلق قانون میں موجود ابہام کو دور کرنے اور اس کو واضح کرنے کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

انھوں نے سماعت کے دوران قرار دیا تھا کہ ''جو کوئی بھی بچہ شادی میں ملوّث ہوتا ہے،وہ مجرم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں؟والدین یا سرپرست یا ولی؟نکاح خواں قاضی ،یا شادی میں شریک باراتی؟''ان کا کہنا تھا کہ حکام کو اس قانون کے نفاذ کے لیے لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

انھوں نے بچوں کی کم عمری میں شادی سے متعلق مذہبی حوالے دینے پر بھی انتباہ کیا تھا اور کہا تھا کہ صرف بالغ افراد ہی ایسے ذہن کے مالک ہوتے ہیں جو نکاح کی شرائط اور قواعد وضوابط کو سمجھ سکتے ہیں۔انھوں نے نکاح نامے میں دُلھا اور دُلھن کی زائد عمریں لکھنے پر انتباہ کیا تھا اور کہا تھا کہ قانون میں ایسی شق شامل کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت قاضی کو ہرماہ مجاز حکام طلب کریں اور اس سے پوچھیں کہ اس نے کتنے نکاح پڑھائے ہیں اور دُلھنوں کی عمریں کیا تھیں؟اس کے بعد ہی وہ کم عمر بچیوں کی شادیوں کے نکاح پڑھانے میں احتیاط برتے گا۔