.

گورنر پنجاب کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالتِ عالیہ اسلام آباد نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو جج صاحبان جسٹس نورالحق قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل بنچ نے ملزم کے وکلاء کی جانب سے دائر کردہ اپیل مسترد کردی ہے۔

بنچ نے 11 فروری کو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف اور ممتاز قادری کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور آج سوموار کو اپنا فیصلہ سنایا ہے۔ممتاز قادری کے وکلاء میں عدالتِ عالیہ لاہور کےسابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف اور ریٹائرڈ جسٹس میاں نذیر بھی شامل تھے۔

اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ممتاز قادری کو اکتوبر 2011ء میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ(اے ٹی اے) کی شق 7 کے تحت سلمان تاثیر کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ان کے وکلاء نے اُسی ماہ انسداد دہشت گردی عدالت کے اس فیصلے کو دو درخواستوں کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ان میں سے ایک درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ ممتاز قادری کی سزائے موت کالعدم قرار دی جائے اور دوسری میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق سات کو سزا کے فیصلے میں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں تعزیرات پاکستان کے تحت مجرم کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کے لیے اپیل مسترد کردی ہے لیکن ان کی اے ٹی اے کی شق سات کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

ممتاز قادری کے وکلاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔اگر عدالتِ عظمیٰ نے بھی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا اور بعد میں صدر ممنون حسین نے رحم کی اپیل بھی مسترد کردی تو پھر مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

اب اگر قادری کے کیس میں اے ٹی اے کی شق سات کو ختم بھی کردیا جاتا ہے تو پھر شاید انھیں فوری طور پر تختہ دار پر نہ لٹکایا جاسکے۔حکومت پاکستان نے 16 دسمبر کو سانحہ پشاور کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد بحال کیا تھا مگر اس کے بعد سے صرف دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے اور قتل یا دوسرے سنگین جرائم میں سزایافتہ مجرموں کی پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے اور اس وقت پاکستانی جیلوں میں ہزاروں قیدی تختہ دار پر لٹکنے کے منتظر ہیں۔

اب عدالت عالیہ اسلام آباد میں قاتل کی انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شق سات کو حذف کرنے کے لیے اپیل کی منظوری کے بعد اس مقدمے کو سیشن عدالت میں دوبارہ سماعت کے لیے بھیجا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کی بعض دینی جماعتیں اور وکلاء کا ایک طبقہ ممتاز قادری کو سنائی گَئی پھانسی کی سزا کی مخالفت کررہا ہے اور ان کی سزا ختم کرکے انھیں رہا کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی ٹین میں واقع عدالت عالیہ میں فیصلہ سنائے جانے کے وقت سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور عدالت کی جانب شاہراہوں کو خار دار تار لگا کر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا تھا۔غیر مجاز لوگوں کو بھی عدالت میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ممتاز قادری پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس کا سابق کمانڈو تھا۔اس نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس میں واقع کوہسار مارکیٹ میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اور عدالت میں مقدمے کی سماعت کے وقت اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔ مقتول گورنر پنجاب توہین رسالت سے متعلق قانون کے سخت ناقد تھے اور انھوں نے توہین رسالت کی ایک عیسائی مجرمہ سے جیل میں بھی ملاقات کی تھی۔مجرم ممتاز قادری کا کہنا تھا کہ سلمان تاثیر گستاخ رسول تھے اور اسی وجہ سے اس نے انھیں قتل کیا تھا۔