.

کراچی :ایم کیو ایم کے مرکز 90 پر رینجرز کا چھاپہ

رابطہ کمیٹی کے ایک رکن سمیت متعدد گرفتار،کثیر اسلحہ وگولہ بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں رینجرز نے لسانی ،سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے عزیز آباد میں واقع ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اس کے رابطہ کمیٹی کے ایک رکن سمیت متعدد افراد کو گرفتار اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا ہے۔

رینجرز نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ایک رکن عامر خان کوگرفتار کیا ہے۔رینجرز کا کہنا ہے کہ اس نے کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز پر تنہا کارروائی کی ہے اور اس میں پولیس شریک نہیں تھی۔

رینجرز کی اس کارروائی کے دوران نائن زیرو میں ایم کیو ایم کا ایک کارکن وقاص علی شاہ پُراسرار حالات میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔ایم کیوایم نے پیراملٹری فورس پر اس کی ہلاکت کا الزام عاید کیا ہے لیکن رینجرز کے ترجمان نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پستول کی گولی لگنے سے ہلاک ہوا ہے اور رینجرز نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی۔

ایم کیوایم کے لندن میں مقیم جلاوطن قائد الطاف حسین نے رینجرز کے چھاپے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے گھر پر اس طرح کی کارروائی کی گئی ہے۔انھوں نے ٹیلی فونک خطاب میں رینجرز سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان کو اتھارٹی حاصل ہے لیکن وہ انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انھوں نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کے وجود کو برداشت نہیں کرتی ہے۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نائن زیرو سے پکڑا گیا اسلحہ ایم کیو ایم کا نہیں ہے۔اگر یہ ہتھیار جماعت کے ہوتے تو انھیں مرکز میں اسٹور نہیں کیا جاتا۔

الطاف حسین نے یہ دعویٰ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے کہ نائن زیرو سے برآمد ہونے والا اسلحہ دراصل رینجرز ہی کمبلوں میں چھپا کر لائے تھے۔انھوں نے دعویٰ کہا کہ رینجرز نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ساٹھ سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایم کیو ایم کے ترجمان واسع جلیل کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے رابطہ دفتر کا کارکن وقاص علی شاہ بدھ کی صبح قریباً پونے آٹھ بجے رینجرز اہلکاروں کی سیدھی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔رینجرز نے صبح چھے بجے کارروائی شروع کی تھی۔انھوں نے ہیڈکوارٹرز میں قریباً پچاس دفاتر میں چھاپے مارے اور فائلوں اور دوسرے دفتری سامان کو ادھر ادھر پھینک دیا اور ٹیلی فون توڑ دیے۔

صوبہ سندھ کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس غلام قادر تھیبو اور رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل ،میجر جنرل بلال اکبر نے ایم کیو ایم کے ترجمان کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ وقاص علی شاہ رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس نوجوان کو ٹی ٹی پستول سے گولی ماری گئی تھی اور یہ حقیقت پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی واضح ہوجائے گی۔

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے اور نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے نجی ٹیلی ویژن چینل ایکپسریس نیوز کا کیمرا مین زخمی ہوگیا ہے۔رینجرز ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹرز کی جانب جانے والے راستے پر رکھی گئی کنکریٹ کی رکاوٹوں کو ہٹانے کے بعد اندر داخل ہوئے تھے اور انھوں نے نائن زیرو سے ملحقہ مکانوں میں بھی چھاپہ مار کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

کرنل طاہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خالصتاً اطلاعات کی بنیاد پر یہ چھاپہ مار کارروائی کی گئی ہے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ نائن زیرو میں واقع خورشید میموریل ہال کو سیل کردیا گیا ہے اور اس کو مزید تحقیقات کے لیے پولیس کے حوالے کردیا جائے گا۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ نائن زیرو سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں نیٹو کے کنٹینروں سے چرایا گیا اسلحہ اور گولہ بارود بھی شامل ہے۔

رینجرز نے بعد میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ نائن زیرو سے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں نجی ٹیلی ویژن چینل جیو کے مقتول رپورٹر ولی بابر کا سزایافتہ قاتل فیصل موٹا بھی شامل ہے۔اس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ولی بابر قتل کیس میں یکم مارچ 2014ء کو اس عدم حاضری میں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔

ایم کیو ایم کے ایک رہ نما فیصل سبزواری نے اسلحہ پکڑے جانے کا اعتراف کیا ہے لیکن انھوں نے یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ تمام اسلحہ لائسنس یافتہ تھا۔البتہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ نیٹو کے کنٹینروں سے چرائے گئے اسلحے کے لائسنس کس پاکستانی محکمے نے جاری کیے تھے۔

ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مار کارروائی کے خلاف کراچی میں اس جماعت کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔جماعت کی قیادت نے رینجرز کی کارروائی کے خلاف پُرامن احتجاج کی اپیل کی تھی لیکن اس کے باوجود اس کے کارکنوں نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ایک بس اور کریم آباد میں ایک رکشے کو نذر آتش کردیا ہے۔

ایم کیو ایم کے خلاف رینجرز کی اس کارروائی پر سوشل میڈیا میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن زیادہ تر نے اس کی حمایت کی ہے اور رینجرز ،پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم میاں نواز شریف کو اس دلیرانہ اقدام پر مبارک باد دی ہے۔فیس بُک اور مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بیسیوں لکھاریوں نے روشنیوں کے شہر کراچی کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنانے کے لیے جرائم پیشہ عناصر ،اجرتی قاتلوں اور ڈکیتوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔بعض کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ہرگز بھی اردو بولنے والوں کی نمائندہ نہیں ہے بلکہ اس نے اردو بولنے والوں کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں اور ان کی نیک نامی کو بٹا لگایا ہے۔