.

لاہور: دو گرجا گھروں میں خودکش بم دھماکے،15 ہلاک

ٹی ٹی پی کے دھڑے جماعت الاحرار نے حملوں کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مسیحی برادری کی دوعبادت گاہوں میں خود کش بم دھماکوں میں پندرہ افراد ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

لاہور کے نواح میں مسیحی برادری کی بستی یوحنا آباد میں اتوار کو کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں یکے بعد دیگر خودکش بم حملے کیے گئے ہیں۔اس وقت ان دونوں گرجا گھروں میں لوگوں کی بڑی تعداد عبادت کے لیے موجود تھی۔ان دونوں عمارتوں کے درمیان پانچ سو گز کا فاصلہ ہے۔

علاقے کے ایک پادری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے کیتھولک چرچ کے مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی ۔اس دوران سکیورٹی پر مامور گارڈز نے ان کو روکا اور فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد ایک حملہ آور بمبار نے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے یوحنا آباد کے علاقے میں ان دونوں خودکش بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

لاہور پولیس کی خاتون ترجمان نبیلہ غضنفر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان گرجا گھروں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی بم دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔یہ دونوں پولیس اہلکار گرجا گھروں کے داخلی دروازوں پر تعینات تھے اور انھوں نے جب حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش تو انھوں نے دھماکے کردیے۔

بم دھماکوں کے بعد مشتعل مظاہرین نے دو مشتبہ افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا ہے۔ان دونوں افراد کے بارے میں شُبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ حملہ آوروں کے ساتھی تھے۔مشتعل مسیحیوں نے ان دونوں کو پہلے مارا پیٹا اور پھر ان کو آگ لگادی۔

یوحنا آباد میں بم دھماکوں کے بعد مسیحی برادری کے ہزاروں افراد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے نزدیک واقع مرکزی شاہراہ فیروزپور روڈ کو بند کردیا۔انھوں نے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ڈنڈے اٹھا رکھے تھے۔انھوں نے توڑ پھوڑ بھی کی اور کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔مشتعل مظاہرین نے ایک میٹرو بس اسٹیشن پر بھی حملہ کردیا اور بس سروس کو معطل کردیا۔

مشتعل عیسائی مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھِی ہوئی ہیں اور انھوں نے چار پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انھیں دو گھنٹے تک ایک دکان میں بند کیے رکھا ہے۔مظاہرین نے الزام عاید کیا ہے کہ یہ پولیس اہلکار حملوں کے وقت دکان میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا آئیرلینڈ کے خلاف میچ دیکھ رہے تھے۔ان کے تشدد سے زخمی ہونے والا ایک پولیس اہلکار بعد میں اسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے یوحنا آباد میں بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے صوبہ پنجاب کی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہروں کے جان ومال کو یقینی بنائے۔

عیسائیوں نے لاہور میں بم دھماکوں کے خلاف سب سے بڑے شہر کراچی ،پشاور ،کوئٹہ اورملتان میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔واضح رہے کہ کالعدم تحریک پاکستان کے تین دھڑوں نے گذشتہ جمعرات کو دوبارہ متحد ہونے کا اعلان کیا تھا اور یہ اس کے بعد ان کا ملک کی مسیحی اقلیت پر پہلا حملہ ہے۔رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے بھی ان بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور پاکستان میں مسیحیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔