.

لاہور: یوحنا آباد میں جلائے گئے نوجوان کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مسیحی برادری کی دوعبادت گاہوں پر خود کش بم حملوں کے بعد زندہ جلائے گئے دو افراد میں سے ایک شناخت ہو گئی ہے۔

لاہور کے ایک شہری محمد سلیم نے نشتر کالونی پولیس اسٹیشن میں سوموار کو ایک درخواست دی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ یوحنا آباد میں دو گرجا گھروں میں بم دھماکوں کے بعد مشتعل ہجوم نے جن دو افراد کو تشدد کے بعد جلا دیا تھا،ان میں ایک ان کا بھائی ہے اور اس کا نام محمد نعیم تھا۔وہ ہمسائے ضلع قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد کے رہنے والے ہیں۔

نشتر کالونی کے پولیس تھانے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ محمد سلیم نے سفاکانہ انداز میں اپنے بھائی کو تشدد کا نشانہ بنانے اور پھر اس کو جلانے والے عیسائی مظاہرین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔

درخواست گزار محمد سلیم کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی شیشے اور ایلومینیم کا کام کیا کرتا تھا اور وہ اتوار کو یوحنا آباد میں کام کے سلسلے ہی میں گیا تھا۔اس کا گرجا گھروں میں ہونے والے بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان دونوں بم دھماکوں میں سولہ افراد ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

ان بم دھماکوں کے بعد مشتعل عیسائی مظاہرین نے یوحنا آباد میں ایک گرجا گھر کے باہر دو افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا تھا۔ان دونوں افراد کو پولیس اہلکاروں نے اسی علاقے سے حراست میں لیا تھا اور ان کے بارے میں شُبہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر حملہ آوروں کے ساتھی تھے۔مشتعل مسیحی مظاہرین ان کو پولیس کے قبضے سے چھین کر لے گئے تھے اور پھر انھوں نے ان دونوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔

پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مسیحیوں کی عبادت گاہوں پر بم دھماکوں کی شدید مذمت کی جارہی ہے تو دوسری جانب عیسائی مظاہرین کے اس سفاکانہ طرزعمل پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا جارہا ہے اور واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ان دونوں افراد کو تشدد کے بعد زندہ جلائے جانے کی تصاویر پوسٹ گئی ہیں۔ان میں مشتعل افراد انتہائی بہیمانہ انداز میں مقتولین تشدد کر رہے ہیں اور پھر انھیں آگ لگا دیتے ہیں۔اب یہ معلوم نہیں کہ آگ لگائے جانے کے وقت وہ زندہ تھے یا جان کی بازی ہار چکے تھے۔دوسرے شخص کی ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان دونوں افراد پر مشتعل مظاہرین کے دھاوے کے بعد انھیں بچانے کی کوشش کی تھی لیکن لوگوں میں بہت زیادہ اشتعال پایا جارہا تھا۔اس موقع پر اگر طاقت کا استعمال کیا جاتا تو صورت حال کنٹرول سے باہر ہوسکتی تھی۔

یوحنا آباد میں مشتعل مسیحی مظاہرین نے سوموار کو دوسرے روز بھی احتجاج جاری رکھا ہے۔مظاہرین نے ہاتھوں میں ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں اور انھوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔اس دوران ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں۔بعض مظاہرین نے دہشت گردی کے واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران پاکستان کے قومی پرچم کو نذرآتش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔

لاہور میں مشتعل مسیحی مظاہرین نے دونوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا دی تھی۔
لاہور میں مشتعل مسیحی مظاہرین نے دونوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آگ لگا دی تھی۔
لاہور میں مشتعل مسیحی مظاہرین دونوں افراد کی جلی ہوئی لاشوں کی اپنے موبائل کیمروں سے تصاویر بنا رہے ہیں۔
لاہور میں مشتعل مسیحی مظاہرین دونوں افراد کی جلی ہوئی لاشوں کی اپنے موبائل کیمروں سے تصاویر بنا رہے ہیں۔