.

حکومت، پی ٹی آئی کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس بات کا باضابطہ اعلان جمعہ کی رات وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین نے اسلام آباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔

نیوز کانفرنس سے خطاب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 'حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے جوڈیشل کمیشن سے متعلق تمام تحفظات دور کردیئے گئے ہیں جس کے بعد تحریک انصاف نے کمیشن کی تشکیل کے لیے تجویز کردہ ناموں پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر صرف چند الفاظ پر اختلافات تھے جو دور کر لئے گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بات چیت کا مقصد مستقبل کے انتخابات کو شفاف بنانا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ ایسا نظام ہو جس پر سب کو اعتماد ہو۔ اس سے جمہوریت مضبوط ہو گی اور جوڈیشل کمیشن کو بنیاد بناتے ہوئے مستقبل میں ہونے والے انتخابات بھی شفاف ہوں گے۔

درایں اثنا خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی عوامی نینشل پارٹی 'اے این پی' نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دو پارٹیوں کے درمیان بننے والا کمیشن مک مکا ہے۔ زاہد خان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے تحفظات کو ٹرم آف ریفرنس میں شامل نہ کیا گیا تو قانون سازی کی حمایت نہیں کریں گے۔

یاد رہے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سال 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں. اس کے خلاف وہ گذشتہ سال کئی ماہ طویل دھرنا بھی دیتی رہی ہے جبکہ دھرنے کے اختتام پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔