.

امیرِ قطر کی پاکستان کے دورے پر اسلام آباد آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر سوموار کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔

بے نظیر بھٹو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر وزیراعظم میاں نواز شریف نے بہ نفس نفیس ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار ،وزیردفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات پرویز رشید ، وزیرتجارت خرم دستگیر خان اور پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی بھی معزز مہمان کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔

تینوں مسلح افواج کے سربراہان ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ،وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور اسلام آباد میں متعیّن قطری سفیر بھی ہوائی اڈے پر امیر قطر کے خیرمقدم کے لیے موجود تھے۔ امیرِ قطر کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی اور پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق شیخ تمیم وزیراعظم میاں نواز شریف کی دعوت پر سوموار اور منگل کو پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔ان کے ہمراہ قطری کابینہ کے وزراء ،قطر ائیرویز کے چئیرمین اور اعلیٰ عہدےدار بھی دورے پر آئے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ امیر قطر کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔

شیخ تمیم اپنے قیام کے دوران وزیراعظم میاں نواز شریف اور صدر ممنون حسین سے الگ الگ ملاقات کریں گے اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔وہ توانائی ،سرمایہ کاری ،تجارت ،دفاع اور افرادی قوت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے سے متعلق امور پر بھی بات چیت کریں گے۔

توقع ہے کہ اس موقع پر پاکستان اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق مختلف سمجھوتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات استوار ہیں اور اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی تارکین وطن قطر میں مقیم ہیں جو وہاں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پاکستان کی سماجی،اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کا امیر قطر بننے کے بعد پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔اس سے پہلے انھوں نے سنہ 2010ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔تب وہ قطر کے ولی عہد تھے اور ان کے والد شیخ حمد امیر قطر تھے۔انھوں نے اس دورے کے موقع پر پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے چالیس کروڑ روپے کی خطیر رقم دی تھی۔